مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 298

مکتوبات احمد ۲۳۷ جلد سوم وو وہ دی کہ آپ اپنی عزیز زوجہ کا زیور اتار کر بھیج دیں ۔ سو خدا تعالیٰ آپ کو اس اخلاص کی بہت بہت جزائے خیر دے اور آپ کی زوجہ کو علاوہ ثواب آخرت کے دنیا میں بہت سے زیور طلائی عنایت کرے کہ ”دہ دنیا استر ستر آخرت آخرت تو ایک وعدہ ہے ۔ آمین آج ثم آبا آمین ۔ ہم نے آپ کی مرضی کے موافق تعمیل کر دی ہے اور مدت دراز گزرگئی ہے کہ آپ نہیں آئے ۔ بہتر ہے کہ موسم سرما میں کوئی ایسی تجویز نکالیں کہ ایک ماہ تک قادیان میں ٹھہر سکیں ۔ دیکھیں آئندہ طاعون کی کیا صورت ہے ۔ کب تک اس کے ٹھہرنے کے لئے حاکم حقیقی کا حکم ہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام ۲۸ جولائی ۱۹۰۱ء خاکسار مرز اغلام احمد از قادیان (نوٹ نمبرا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو پورا کرنے والے اللہ تعالیٰ نے حضور کی اس بات کو بھی کہ وہ دنیا اور نستر آخرت تو ایک وعدہ ہے اب میں سال کے بعد لفظ بلفظ پورا کیا اور وہ اس طرح سے کہ اگست ۱۹۲۱ء میں مولوی عبداللہ صاحب کے فرزند اصغر اور مولوی صاحب موصوف کی اس چھوٹی بیوی کے اکلوتے بیٹے عزیز عبد القدیر کی اہلیہ کے رخصانہ کے موقع پر اس ایک نتھ طلائی قیمتی ( ) روپیہ کی بجائے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اور اپنی خاص حکمت سے جس کو وہی جانتا تھا۔ عزیز کی اہلیہ کو دس طلائی زیور جن کی قیمت اس نتھ کی قیمت سے وہ چند سے بھی یک صد روپیہ اوپر ہے پہنائے جس کے متعلق پہلے وہم و گمان بھی نہ تھا ۔ زیوروں کو شمار کرنے کے وقت حضور کی یہ بات یاد آئی۔ جسے اس وقت مولوی صاحب موصوف نے اپنے گھر کے لوگوں کے پاس بیان کیا جس سے سب کے ایمان بفضلہ تعالیٰ اور بھی بڑھے۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ۔ ( نوٹ نمبر ۲) مولوی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ عبدالقدیر میرا لڑکا ( جو برکت اللہ کے بعد پیدا ہوا) اس کا عقیقہ میں نے خود قادیان آکر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے کرایا۔ عقیقہ کے دن حضور کو سر درد کا دورہ تھا۔ شام کے وقت جب میں حضور کے پاس اندر گیا تو حضور نے فرمایا کہ ہم نے جو کھانا عقیقہ کے کھانے میں اپنے لئے منگوایا تھا۔ وہ