مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 278
مکتوبات احمد ۲۱۷ جلد سوم - ( نوٹ ) یہ مشورہ مولوی عبداللہ صاحب نے ایک جگہ پر اپنے نکاح ثانی کے متعلق بذریعہ عریضہ حضور سے لیا تھا ۔ جس کی تاریخ نکاح ۲ شوال ۱۳۱۱ ھ بھی اور دو سور و پیہ مہر بھی مقرر ہو چکا تھا ۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے محض تبرکاً حضور سے اس بارے میں مشورہ طلب کیا تھا اور اپنے عریضہ میں ظاہر بھی کر دیا تھا کہ تمام امور طے ہو چکے ہیں ۔ صرف تبرک کے لئے حضور سے مشورہ طلب کیا ہے ۔ جس پر حضور نے یہ جواب لکھ کر خود ہے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی اشد تاکید فرمائی ۔ چنانچہ میں حضور کے اس ارشاد کی بنا پر رمضان شریف ہی میں غوث گڑھ سے دو تین احباب کو ہمراہ لے کر اس گاؤں میں پہنچا اور جا کر کشم خود اس لڑکی کو دیکھا ۔ وہ کوئی بد شکل نہیں تھی مگر مجھے اس کی شکل دیکھتے ہی اس سے اس قدر نفرت اور کراہت ہوئی کہ جس کو میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اس وجہ سے اس نکاح کی تجویز منسوخ کی گئی اور میرا ایمان حضرت اقدس پر اور بھی بڑھ گیا۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۴۳ مشفقی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ اپنے والد صاحب کی طبیعت کا حال لکھیں ۔ ابھی اشتہار چارے ہزار چھپ کر نہیں آیا۔ جس وقت آئے گا ۔ انشاء اللہ آپ کی خدمت میں مرسل ہوگا ۔ والسلام ۲۳ راکتو بر ۱۸۹۴ء خاکسار غلام احمد لے چار ہزار روپیہ والا اشتہار جو آتھم کے متعلق شائع فرمایا تھا۔