مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 100
مکتوبات احمد ۹۲ جلد سوم انسان اس روح کو اپنے اندر پیدا نہ کر لے جو سورہ فاتحہ میں رکھی گئی ہے محض منتر جنتر کے طور پر پڑھنے ھنے سے وہ برکات حا حاصل نہیں ہو سکتے ۔ یہ ۔ یہ عجیب نکتہ معرفت ہے اور اس سے آپ کی ہے اور اس سے آپ کی ایمانی او عملی قوت کا پتہ لگتا ہے کہ معرفت الہیہ کے کس بلند مقام پر آپ پہنچے ہوئے تھے۔ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد مکتوب نمبر ۵ بخدمت اخویم مخدومی و مکرم محبی صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمه تعالی السلام علیکم ورحمة الله وبركاته اس جگہ بفضلہ تعالیٰ ہر ایک طرح سے خیریت ہے ۔ خداوند کریم آں محب مخلص کو خوش رکھے۔ عنایت نامہ جس وقت آیا دوسرے روز یہاں سے جواب لکھ کر روانہ کیا گیا تھا مگر کل کے عنایت نامہ سے جو وارد ہو کر موجب خوشی ہوا معلوم ہوا کہ وہ پہلا خط اس عاجز کا نہیں پہنچا۔ یہ عاجز آپ کی توجہ کا بہت شکر گزار ہے اور آپ کے ملنے کو دل چاہتا ہے مگر موقوف بروقت ہے۔ آپ بلا تکلف کا روبار متعلقہ اس طرف سے مسرور فرمایا کریں ۔ حصہ پنجم انشاء اللہ اب عنقریب چھپنے والا ہے اور ایک خبر تازہ خبر یہ ہے کہ اندر من مراد آبادی نے جو ایک بڑا مخالف اسلام ہے دعوی کیا تھا کہ اگر چوبیں سو روپیہ میرے لئے سرکار میں جمع کرا دیا جائے تو میں ایک سال تک قادیان میں کوئی نشان دیکھنے کے لئے ٹھہروں گا اور اسی غرض سے اس نے اول نابھہ سے اور پھر لاہور میں آکر خط لکھا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے شکست کھا کر بھاگ گیا یعنی چوبیس (سو ) روپیہ ایک مسلمان نے اُس کے ایک سال کے لئے اس عاجز کو دے دیئے کہ تا حسب منشا اندر من سرکار میں جمع کرائے جائیں ۔ آخر وہ اس بات کا نام سنتے ہی فراری ہوا ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ۔ ۱۹ جون ۶۸۵ والسلام خاکسار غلام احمد