مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 72

مکتوبات احمد ۷۲ جلد دوم ایک گشتی مکتوب یہ ایک مکتقرب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بظاہر حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین خلیفہ اسیح اول کے نام بشیر اول کی وفات پر لکھا تھا مگر اس مکتوب کی متعد دنقول میاں شمس الدین ساکن قادیان ( جو حضرت اقدس کے استاد اول میاں فضل الہی کے بیٹے تھے ۔ ابتدا اور عموماً حضرت اقدس کے مسودات کو خوشخط صاف کیا کرتے تھے ) نے کی تھیں اور حضرت اقدس نے ایک نقل لودہا نہ کپورتھلہ کے احباب اور بعض اخص احباب کو روانہ فرمائی تھی ۔ اس مکتوب میں حضرت نے بعض احباب کے اخلاص خاص کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ ” یہ بشیر در حقیقت ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا اور اس کی موت ان سچے مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہے جن کو اس کے مرنے پر اللہ غم ہوا۔ یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ اگر ہماری ساری اولاد مر جاتی اور بشیر جیتا رہتا تو ہمیں کچھ رنج نہ تھا۔ یہ بزرگ جس نے اس اخلاص کا اظہار کیا وہ حضرت منشی محمد خان صاحب افسر نگھی خانہ کپورتھلہ رضی اللہ عنہ تھے۔ نور اللہ مرقدہ ہ۔ 5- حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ ہمیشہ حضرت منشی محمد خان صاحب کے اس اخلاص پر رشک فرمایا کرتے تھے اور بار ہا فرمایا کہ بشیر اول کی وفات پر جو شخص ہم سب سے آگے نکل گیا وہ محمد خان تھا رضی اللہ عنہ ۔ حقیقت میں یہ بڑا فضل اور بڑا کرم رب کریم کا ان پر تھا اور اس اخلاص و عقیدت کا ایک بین ثبوت دنیا نے دیکھ لیا کہ ان کی وفات پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بشارت دی کہ اولاد سے نیک سلوک کیا جائے گا چنانچہ سب کے سب معزز و خوشحال ہوئے اور اپنے اپنے رنگ میں اخلاص کا بہترین نمونہ ہیں ۔ اب میں اس مکتوب کو درج کر دیتا ہوں ۔ غور سے پڑھوا اور مصلح موعود ( جس کو خدا نے اب ظاہر کر دیا ہے ) کے مقام اور شان کو سمجھو ۔ ( عرفانی کبیر )