مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 70

مکتوبات احمد ۷۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آئمکرم کا ایک خط جو بابو محمد بخش صاحب کے نام آپ نے بھیجا تھا انہوں نے بجنسہ وہ خط میرے پاس بھیج دیا ہے۔ اس لئے آپ کی خدمت میں ظاہر کرتا ہوں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کی نصرت کے لئے محبت اور ہمدردی کا آپ کو جوش بخشا ہے وہ تو ایک ایسا امر ہے جس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْطَانِي مُخْلِصًا كَمِثْلِكُمْ مَحِيًّا كَمِثْلِكُمْ نَاصِرًا فِي سَبِيلِ اللهِ كَمِثْلِكُمْ وَهَذَا كُلُّهُ فَضْلُ اللَّهِ لیکن بابو محمد بخش کی نسبت جو کچھ آپ نے سنا ہے یہ خبر کسی نے غلط دی ہے ۔ بابو محمد بخش بھی مخلص آدمی ہے اور اس عاجز سے ارادت اور محبت رکھتا ہے اور وہ بہت عمدہ آدمی ہے۔ اس کے مال سے ہمیشہ آج تک مجھ کو مدد پہنچتی رہی ہے۔ مجھ کو آپ یہ بھی لکھیں کہ لودہیا نہ کے معاملہ میں کسی مصلحت سے توقف کی گئی ہے۔ میرے نزدیک بہتر تھا کہ یہ معاملہ جلد پختہ کیا جا تا۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۱۲ استمبر ۱۸۸۸ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاکسار غلام احمد از قادیان