مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 653
مکتوبات احمد ۶۵۳ جلد دوم خطاب به اقبال ڈاکٹر سرا قبال آج علمی دنیا میں معروف ہیں ۔ کسی زمانہ میں وہ سلسلہ عالیہ سے محبت و اخلاص کا تعلق رکھتے تھے ۔ بلکہ جب ایف اے میں پڑھتے تھے۔ تو سلسلہ کے بعض معاندین کا جواب بھی نظم میں آپ نے دیا تھا۔ آپ کے خاندان کے بعض ممبر اسی سلسلہ میں شامل ہونے کی عزت وسعادت حاصل کر چکے ہیں ۔ مخزن نمبر ۲ جلد ۳ بابت ماہ مئی ۱۹۰۲ء کے صفحہ ۴۸ پر سر اقبال نے جو اس وقت اقبال تھے ۔ ایک نظم پیغام بیعت کے جواب میں شائع کی تھی ۔ ڈاکٹر اقبال کے کسی شفیق ناصح نے انہیں بیعت کی تحریک کی تھی ۔ اس کا جواب انہوں نے نظم میں مخزن کے ذریعہ شائع کیا۔ سلسلہ کے گراں قدر بزرگ میرے اور ڈاکٹر اقبال کے مکرم حضرت میر حامد شاہ صاحب نے بھی انہیں ایام میں اس کا جواب منظوم نہایت لطیف شائع فرمایا اور ڈاکٹر اقبال کو ان کی ایک رویا کی یاد دلائی ۔ حضرت چودھری رستم علی صاحب مغفور نے بھی اس کا ایک جواب لکھا اور یہ جواب گو یا حضرت اقدس کی زبان سے دیا ہے اور دنیا اس سے غافل رہی ۔ مگر میں آج ۲۷ برس کے بعد اس کے بعض اشعار کو پبلک کرتا ہوں کہ یہ اسی کی امانت ہے۔ (عرفانی ) چوہدری رستم علی اقبال خضر سے چھپ کے کہہ رہا ہوں میں تشنہ کام مئے فنا ہوں میں یہی ہر اک سے کہہ رہا ہوں میں حق سے خضر رہ خدا ہوں میں وہ مرے گا چھٹے گا جو مجھ فانیوں کے لئے بقا ہوں میں ہم کلامی ہے غیریت کی دلیل خاموشی پر مٹا ہوا ہوں میں سے بولتا ہوں میں سے میں تو خاموش تھا اور اب بھی ہوں ہم کلامی جو غیریت ہے تو ہو کانپ اٹھتا ہوں ذکر مرہم پر درد ہاں مولی پیرو احمد خدا وہ دل ہوں میں درد آشنا ہوں میں جھوٹی بات آتیرے درد کی دوا ہوں میں آشنا اور تنکے چن چن کے باغ الفت کے آشیانه بنا رہا ہوں میں