مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 641
مکتوبات احمد ۶۴۱ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۷۳ ملفوف حضرت اقدس نے یہ مکتوب چوہدری صاحب کے مرسلہ خط کی پشت پر ہی لکھ دیا ہے اور اس طرح پر وہ اصلی خط بھی محفوظ ہے ۔ میں نے پسند کیا کہ پہلے اس خط کو درج کر دوں ۔ پھر حضرت کا اصل مکتوب جو اس کے جواب میں ہے۔ (عرفانی) ( چوہدری رستم علی صاحب کا خط ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بحضور پرنور جنابنا و با دینا حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ سرفراز نامه حضور کا صادر ہوا ۔ باعث افتخار ہوا ۔ آج تک اشتہا رکوئی بھی اس عاجز کے پاس قادیان سے صادر نہیں ہوا۔ امید وار کہ براہ نوازش دو دو چار چار کا پیاں مرحمت فرمائی جاویں۔ مولوی محمد علی صاحب کی بابت گورداسپور سے جو جواب آیا ۔ اس کی بابت پہلے نیاز نامہ میں عرض کر چکا ہوں ۔ یعنی اس میں جواب سمجھنا چاہئے ۔ اب رہا یہاں پر جو ہمارے سر دفتر صاحب خواہشمند ہیں ۔ ان کی دولڑکیاں ہیں اگر ان میں سے کوئی پسند آجاوے تو بابو مذکور بہت خوش ہو سکتا ہے۔ مگر اس کی متلون مزاجی پر مجھے پورا اعتماد نہیں ہے۔ یہ لشکری لوگ ہیں ۔ گو شریعت کی پابندی کا دعوی ہے مگر وقت پر آکر ایسی ایسی شرائط پیش کرتے ہیں کہ جو مشکل ہوں مثلاً مہر کی تعداد بہت زیادہ۔ مگر اس کی لڑکیوں میں سے کوئی پسند آجاوے تو پھر ایسی شرائط پہلے ہی طے کر لی جاویں ۔ میری حالت بہت خراب ہے۔ گناہوں میں گرفتار ہوں ۔ کیا کروں کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی ۔ سوائے اس کے کہ خداوند کریم اپنا فضل شامل حال کرے ۔ حضور سے التجاء ہے کہ میرے واسطے ضرور بالضرور دعا فرمائی جاوے کہ نفس امارہ کی غلامی سے رہائی پاؤں ۔ مجھے اپنی حالت پر بہت افسوس رہتا ہے اور ڈرتا بھی ہوں ۔