مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 630
مکتوبات احمد ۶۳۰ مکتوب نمبر ۲۶۲ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مقدمہ کی نقل جو محمد حسین پر ہوا تھا ۲۷ جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے جو تاریخ پیشی مقرر ہے۔ مجھ کو پہنچ جاوے کیونکہ محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر نے محمد حسین کی صفائی کرتے ہوئے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ یہ بہت نیک چلن آدمی ہے ۔ کوئی مقدمہ اس کی طرف سے یا اس پر نہیں ہوا ۔ مگر اس جگہ سے آدمی آنا البتہ مشکل ہے۔ اسی جگہ سے خواہ اخویم با بومحمد صاحب کے ذریعہ سے کسی کو مقرر کر کے درخواست دلا دینا چاہئے اور پھر جہاں تک ممکن ہو وہ درخواست جلد بذریعہ رجسٹری پہنچا دینی چاہئے ۔ محمد بخش نے نہایت نا پاک اور جھوٹا اظہار دیا ہے اور صاف لکھوا دیا ہے کہ یہ اور ان کی تمام جماعت بد چلن ہیں ۔ اوّل کسی کے مارنے کی پیشگوئی کر دیتے ہیں ۔ پھر پوشیدہ ناجائز کوششوں کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ اور میں قادیان میں اسی خیال سے دوسرے تیسرے روز ضرور جاتا ہوں ۔ اسی وجہ سے مجھے سب کچھ معلوم ہے اور ان کا چلن اچھا نہیں ۔ خراب اور خطر ناک آدمی ہیں ۔ مگر محمد حسین نیک بخت اور اچھے چلن کا آدمی ہے ۔ کوئی بُری بات اس کی کبھی سنی نہیں گئی ۔ ایسے گندہ اظہار کی وجہ سے کل میں نے گواہوں کی طلبی اور خرچہ کے لئے چار سو روپیہ کے قریب روپیہ عدالت میں داخل کیا ہے، تین سو روپیہ میں نے دیا تھا اور ایک سو گورداسپور سے قرضہ لیا گیا اور وکیلوں کو جو کچھ ۲۷ جنوری کی پیشی میں دینا ہے ۔ وہ ابھی باقی ہے۔ شاید پانچ سو روپیہ کے قریب دینا پڑے گا اور یقیناً اس کے بعد ایک یا دو پیشیاں ہوں گی ۔ تب مقدمہ فیصلہ پائے گا۔ میں نے سنا ہے کہ پوشیدہ طور پر اس مقدمہ کے لئے ایک جماعت جماعت کوشش کر رہی رہی ہے اور چندے بھی بہت ہو گئے ہیں ۔ آپ اگر ملاقات ہو تو اخویم بابو محمد صاحب کو لکھ دیں کہ میں نے انتظام کیا ہے کہ اس خطر ناک مقدمہ میں جو تمام جماعت پر بداثر ڈالتا ہے۔ جماعت کے لوگوں سے چندہ لیا جاوے گا۔ سو اس چندہ میں جہاں تک گنجائش ہو۔ وہ بھی شریک ہو جائیں ۔ لیکن ۲۷ جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے اپنی للہی مدد سے ثواب آخرت حاصل کریں