مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 592
مکتوبات احمد ۵۹۲ مکتوب نمبر ۲۰۶ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ آپ مطمئن رہیں ۔ آپ کے لئے انشاء اللہ القدیر یہ عاجز بہت دعا کرے گا ۔ اللہ جل شانہ پہلے اس سے ہر ایک دعا آپ کے لئے قبول فرما تا رہا ہے۔ امید کہ اب بھی قبول فرمائے گا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ جلد یا کسی قدر دیر سے ۔ اس کے ہر ایک کام میں خیر اور خوبی ہے۔ اپنے حالات سے مجھ کو بدستور مطلع فرماتے رہیں ۔ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ : ۔ تاریخ مٹ گئی ہے۔ (عرفانی ) مکتوب نمبر ۲۰۷ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ محبی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ تعجب کہ کس قدر آپ کے پاس کسی نے جھوٹ بولا اور دوسرا تعجب کہ آپ کو بھی حقیقت واقعہ سے اطلاع نہیں ہوئی ۔ بات یہ ہے کہ جب یہ عاجز امرتسر گیا اور جاتے ہی عاجز نے ایک خط رجسٹری کرا کر عبد الحق کو مباہلہ کے لئے بھیجا کہ تم اس وقت مجھ سے مباہلہ کر لو۔ لیکن اس نے بدست منشی محمد یعقوب صاحب ایک خط اس مضمون کا لکھا کہ اس وقت تم عیسائیوں سے مباحثہ کرتے ہو۔ اس وقت میں مباہلہ مناسب نہیں دیکھتا۔ جس وقت لاہور میں مولوی غلام دستگیر سے بحث ہوگی ۔ اس وقت مباہلہ کروں گا۔ لیکن اس کے جواب میں لکھا گیا کہ جو شخص ہم میں سے مباہلہ ۔