مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 48
مکتوبات احمد ۴۸ جلد دوم عجب ہے کہ اب بھی میں ایسا ہی کروں ۔ آپ کو میں لگا نہ دوست سمجھتا ہوں اور آپ کے لئے میرے دل و جان سے دعا ئیں نکلتی ہیں ۔ ۔ ۳۱ اکتوبر ۱۸۸۷ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۳۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمه تعالی ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج نصف قطعات نوٹ دو سو چالیس روپے مرسلہ آں مخدوم پہنچ گئے ۔ امید کہ باقی قطعات بھی بذریعہ رجسٹری ارسال فرماویں میں نے السلام علیکم آں مخدوم بشیر احمد کو پہنچا دیا۔ پہلے تو مجھے یہی خیال ہورہا تھا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا لیکن تعمیل ارشاد آں مخدوم کی گئی ۔ اُس وقت طبیعت اس کی اچھی تھی ۔ بار بار تبسم کر رہا تھا۔ چنانچہ السلام علیکم کے بعد بھی یہی اتفاق ہوا کہ دو تین مرتبہ اس نے تبسم کیا اور انگشت شہادت منہ پر رکھ لی ۔ اگر کشمیر میں یعنی سری نگر میں یہ خط مل جائے تو بیشک ایک مہر کھدوا کر لے آئیں ۔ چاندی کی ایک سُبک جیسی انگشتری ہو جس پر یہ نام لکھا ہو کہ بشیر ۔ امید که اب ملاقات میسر آئے گی لیکن قبل از ملاقات ایک ہفتہ مجھ کو اطلاع بخشیں کہ با بومحمد صاحب کی طرف سے بہت تاکید ہے کہ اگر آپ آویں تو مجھ کو بھی اطلاع دی جاوے ۔ امید کہ آں مخدوم نے کتاب لیکھرام کی طرف توجہ فرمائی ہو گی ۔ اس کی بیخ کنی نہایت ضروری ہے لیکن حتی الوسع یہ مد نظر رہے کہ عام خیال کے آدمی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور واضح اور