مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 46
مکتوبات احمد ۴۶ جلد دوم اندرونی تردّدات پر واقف ہوں اس لئے مجھے اس کی حالت پر بہت رحم آتا ہے اور اس کا چھوٹا بھائی عبداللہ خان نام بھی نیک بخت آور جوان بیس بائیس سالہ مستعد آدمی ہے۔ چونکہ فتح خاں پر دین کی ہمدردی اور غمخواری کا اس قدر غلبہ ہو رہا ہے کہ وہ دنیوی معاشات کو به سختی و جد و جہد طلب کرنے کے قابل نہیں لیکن بھائی اس کا اس قابل ہے۔ سو میں چاہتا ہوں کہ آں مخدوم کی سعی اور کوشش اور سفارش سے جموں میں کسی جگہ دس بارہ روپیہ کی نوکری عبداللہ خاں کو مل جاوے ۔ مجھے اس شخص کیلئے درد دل سے خیال ہے۔ سو آپ محض اللہ ایک دو جگہ سفارش کریں ۔ عبداللہ خاں بہت مضبوط آدمی ہے کسی امیر کی اَردل میں کام دے سکتا ہے اور پولیس میں عمدہ خدمت دینے کے لائق ہے۔ کسی قدر فارسی بھی پڑھا ہوا ہے۔ امید کہ آں مخدوم نہایت تفتیش فرما کر جواب سے ممنون فرمائیں گے اور اپنی خیر و عافیت سے جلد تر مطلع فرما دیں ۔ باقی بفضلہ تعالیٰ سب خیریت ہے ۔ ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ: فتح خاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس خادم تھا اور قریباً چار پانچ سال تک یہاں رہا ہے۔ وہ رسولپور متصل ٹانڈہ کا رہنے والا تھا۔ قوم کا افغان تھا۔ حضرت اقدس کی خدمت میں محض اخلاص وارادت سے رہتا تھا۔ اس کا بھائی عبداللہ خاں بھی یہاں ڈیڑھ سال تک رہا تھا۔ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سفارش فرمائی ہے۔ اگر چہ وہ محض اخلاص سے رہتا تھا اور اس کی کوئی تنخواہ مقرر نہ تھی ۔ مگر مرز امحمد اسماعیل بیگ کو حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ اس کے کپڑے وغیرہ بنوا دو اور کچھ نقدی بھی وقتاً فوقتاً دے دیا کرتے تھے چونکہ نقدی اور حساب کتاب مرزا صاحب کے پاس رہتا تھا اس لئے ان کو ہی یہ حکم دیا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خادموں کی ضروریات کا کس قدر احساس رکھا کرتے تھے ۔ اور یہ خط اور بھی اس پر روشنی ڈالتا ہے کہ آپ نے حضرت حکیم الامت کو سفارش فرمائی ۔ ( عرفانی ) *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*