مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 39
مکتوبات احمد ۳۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالی ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج عنایت نامہ پہنچ کر موجب خوشی و اطمینان ہوا ۔ جزاکم اللہ خیرا۔ اس عاجر نے بموجب تحریر ثانی ، جو مولوی کریم بخش صاحب کے خط کے لفافہ پر تھی ، بلا توقف کتابیں بھیج دیں تھیں لیکن رجسٹری نہیں کرائی گئی تھی ۔ اگر اب تک نہ پہنچی ہوں تو مکرر بھیج دی جائیں ۔ میں نے مطبع کے بندو بست کیلئے بہت سی فکر کے بعد یہ قرین مصلحت سمجھا کہ بعض دوستوں سے بطور قرضہ کچھ لیا جائے ۔ جس میں سے کچھ پر لیس اور پتھروں کی قیمت پر خرچ آوے اور کسی قدر کا غذ خریدا جائے اور کچھ أجرت وغیرہ کیلئے جمع رکھا جائے ۔ تو ایسے با اخلاق آدمیوں کے انتخاب کیلئے جب فہرست خریداران پر نظر ڈالی گئی تو ہزار آدمی میں سے صرف چھ آدمی پر نظر پڑی جن میں سے بعض قوی الاخلاق ہیں اور بعض کا حال کما حقہ معلوم نہیں ۔ ناچار دردِ دل سے یہ دعا کرنی پڑی ۔ رَبِّ اعْطِنِي مِنْ لَّدُنْكَ أَنْصَارًا فِي دِينِكَ وَاذْهَبُ عَنِّي حُزْنِي وَاصْلِحُ لِي شَانِي كُلِّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ امید ہے کہ قرین با جابت ہو۔ اب میں آپ کی خدمت میں مفصل ظاہر کرتا ہوں کہ میرا ارادہ تھا کہ چودہ آدمی منتخب کر کے سو سو روپیہ بطور قرضہ بوعده میعاد ایک سال بعد طبع سراج منیر اُن سے لیا جاوے۔ یعنی ابتدا میعاد کی اس تاریخ سے ہو جب چھپ چکے ۔ کیونکہ طبع سراج منیر کیلئے چودہ سو روپیہ تخمینہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ صورت انجام پذیر ہو سکے ۔ تو کسی ذی مقدرت دوست پر بوجھ نہیں ہوتا لیکن افسوس که فهرست خریداران کے دیکھنے سے صرف چھ آدمی ایسے خیال میں آئے جو اس کام کے لئے انشراح دل سے متوجہ ہو سکتے ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ یہ کام بہر حال رمضان شریف میں شروع ہو جائے اور میں یہ روپیہ لینا صرف قرضہ کے طور پر چاہتا ہوں کہ دوستوں پر تھوڑا تھوڑا بار ہو جو سو روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ سو اگر ایسا ہو سکے کہ بعض با اخلاص آدمی جو آپ کی نظر میں ہوں اس قرضہ کے دینے میں شریک ہو جائیں تو بہت آسانی کی بات ہے ورنہ مالک خَزَابِنُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ا المنفقون : 8