مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 440
مکتوبات احمد ٢٠م جلد دوم نہوں نے حضرت خلیفہ ثانی اب نہوں نے حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی بیعت کی اور آخر دم تک اسی پر قائم رہے۔ اسی محبت و وفا میں اپنے مولی حقیقی سے جاملے ۔ اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل اور رحم کرے۔ انہیں اپنی رضا کے ۔ مقام پر اُٹھائے ۔ آمین ۔ سیٹھ صاحب کی ایک مختصر سی سوانح عمری انشاء اللہ بعد میں شائع ہو سکے گی ۔ وباللہ التوفیق ۔ خاکسار یعقوب علی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں حضرت سیٹھ صاحب کی زندگی کا ایک واقعہ حضرت سیٹھ صاحب کی زندگی کے ایک واقعہ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں کیا ہے۔ میں اسے بھی یہاں درج کر دیتا ہوں ۔ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صادق کی شناخت اور اپنے صادق ہونے کے ثبوت میں بیان کیا ہے چنانچہ فرمایا :۔ سو متوجہ ہو کر سننا چاہئے کہ خواص کے علوم اور کشوف اور عوام کی خوابوں اور کشفی نظاروں میں فرق یہ ہے کہ خواص کا دل تو مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ آفتاب روشنی سے بھرا ہوا ہے وہ علوم اور اسرار غیبیہ سے بھر جاتے ہیں اور جس طرح سمندر اپنے پانیوں کی کثرت کی وجہ سے نا پیدا کنار ہے ۔ اسی طرح وہ بھی نا پیدا کنار ہوتے ہیں اور جس طرح جائز نہیں کہ ایک گندے سڑے ہوئے چھپڑ کو محض تھوڑے سے پانی کے اجتماع کی وجہ سے سمندر کے نام سے موسوم کر دیں ۔ اسی طرح وہ لوگ جو شاذ و نادر کے طور پر کوئی سچی خواب دیکھ لیتے ہیں ۔ ان کی نسبت نہیں کہہ سکتے دیکھ ۔ کہ وہ نعوذ بالله ، ان بحار علوم ربانی سے کچھ نسبت رکھتے ہیں اور ایسا خیال کرنا اسی قسم کا لغو اور بیہودہ ہے کہ جیسے کوئی شخص صرف منہ اور آنکھ اور ناک اور دانت دیکھ کر سو رکو انسان سمجھ لے یا بندر کو بنی آدم