مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 436
مکتوبات احمد ۴۳۶ جلد دوم ہے ، یہ دنیا قائم ہے اور بہت کچھ برکات اور فیوض آئندہ اس کے وجود باجود سے اس کو نصیب ہونے والے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب وہ تمام باتیں عام طور پر ظاہر ہو جائیں گی ۔ اگر چہ خاص طور پر اس کا مشاہدہ کرنے والے مشاہدہ بھی کر چکے ہیں ۔ والحمد لله علی ذلک ۔ اب تیسری بات یہ ہے کہ اس عالی جناب امام کی صداقت پر زمینی اور آسمانی نشان کیا کیا ظاہر ہوئے؟ سواس کا جواب یہی ہے کہ اکثر وہ سب ظاہر ہو گئے جن کا حدیثوں میں ذکر ہوا ہے اور اکثر ا کا برانِ دین کا بھی اسی چودہویں صدی پر اس کے ظہور فرمانے کا زمانہ کشفاً اور الہاما ظاہر ہو گیا ہے اور وہ اپنی اپنی تصنیفات میں اس کا ذکر بھی کر چکے ہیں اور ان سب باتوں کے مفصل مذکور کے لئے ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں بھری پڑی تھیں ۔ خدا تعالیٰ دنیا کو ان کتابوں کے دیکھنے کی توفیق نصیب کرے تو پھر کسی قسم کا شک باقی نہ رہے گا۔ اب رہی چوتھی بات کہ امام وقت کی طرف رجوع نہ کرنے کا باعث کس قسم کے آثار وقوع پذیر ہوتے ہیں تو جواب میں یہ گزارش کافی ہوگی کہ عیاں را چه بیان ۔ آج کامل تین سال ہوئے جو قہر الہی کے آثار کل دنیا میں آشکار ہو گئے ہیں مگر خاص کر کے ہند کا حال تو پوچھو ہی نہیں ۔ ابتدا تو طاعون سے ہوئی ہے مگر بعد اس کے قہر الہی کے نمونے جو وقتاً فوقتاً مخالف مغضوب قوموں کے لئے ہوئے جن کا ذکر خود اللہ جل شانہ کی کتاب پاک میں موجود ہے، ظاہر ہو گئے ہیں ۔ اور پھر یہ نہیں کہ ایک وقت دیکھو طاعون کا حملہ باری باری سے کس طرح ہوتا ہے اور پھر یہ گو ہنوز روز اول ہے اور بعد اس کے قحط کو دیکھو پچھلے سال اس قدر شدت نہ تھی جتنی اس سال میں ہے۔ اخبار بینوں پر مخفی نہیں ۔ اس کے بعد زلزلہ آیا۔ پہلی مرتبہ تو چند ایک پُر خطر منظر پر تھا۔ جو خیر گزری اور بنگالہ ضلع رین کلکتہ سے لے کے دارجلنگ پر ایک وقت شدت سے ہوا اور کچھ خفیف سا نقصان بھی ہوا ۔ مگر جانوں کی خیر گزری اور بعد اس کے خفیف طور پر مختلف مقاموں پر کچھ کچھ حرکتیں اس کی ہوتی آئیں۔ مگر پچھلی دفعہ جو اس کا حادثہ ہوا جس کو ابھی چند مہینے گزرے، کسی قیامت کا ہوا ۔ کتنی جانیں تلف ہوئیں اور کتنے مقامات زمین کے اندر دھنس گئے ۔ علی ہذا القیاس۔ سیلاب کی بابت دیکھئے پہلے تو جب یہ چڑگام اور اس کے اطراف میں آیا تو کچھ کم نقصان ہوا مگر بار ثانی جو پٹنہ ضلع بھاگلپور اس کی نوبت پہنچی تو کیا کچھ خرابی نہ ہوئی ۔ صدہا گاؤں غرقاب ہو گئے اور بے حساب بندگان خدا اور چار پائے ہلاک ہو گئے جس کا صحیح