مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 37
مکتوبات احمد ۳۷ جلد دوم بہت ہی کم ہیں ۔ صفت جوانمردی اور یک رنگی اور خلوص اور وفا اور رو بحق ہونے کے اور بایں ہمہ انشراح صدر اور غربت اور فروتنی اور تواضع ایسی ان میں پائی جاتی ہے کہ جس پر در حقیقت ہر ایک مومن کو رشک کرنا چاہئے ۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَام لے میں خوب جانتا ہوں اور مجھے بہت کامل تجربہ ہے کہ اللہ جل شانہ پر کوئی شخص اپنی صفائی میں سبقت نہیں لے جاسکتا اور وہ محسنین کا ہرگز اجر ضائع نہیں کرتا۔ ہاں یہ بات ہے کہ درمیانی زمانوں میں ابتلا کے طور پر کشف خیر میں کچھ توقف ہوتی ہے مگر آخر رحمت الہی دستگیری کرتی ہے اور مومن کو چشم گریاں کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ربانی نیکی اور رحمت اور مروت اس کی نیکی سے بڑھ کر ہے۔ سو میں دلی اطمینان سے مولوی حکیم نورالدین صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ ہر ایک بات میں امید وار رحمت الہی رہیں ۔ خدا تعالیٰ اُن کو ضائع نہیں کرے گا ۔ وہ جس کے ہاتھ میں سب قدرتیں ہیں نہایت ہی غفور الرحیم ہے ۔ وفادار بندے آخر اس سے اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ اس کا قدیم سے اپنے خالص بندوں کیلئے یہی قانون قدرت ہے کہ درمیان میں کچھ کچھ تکلیف اور خوف اور حزن اُٹھا کر انجام کار فائز المرام ہوتے ہیں ۔ ۱۴ رمتی ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار ا الحديد: ٢٢ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ غلام احمد از قادیان