مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 24
مکتوبات احمد ۲۴ جلد دوم إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ۔ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ۔ سو خدا تعالیٰ کو اپنا متوتی اور متکفل سمجھنا اور پھر لازمی امتحانوں اور آزمائشوں سے متزلزل نہ ہونا اور مستقیم الاحوال رہنا بھی خوف اور حزن کا علاج ہے۔ حکم جاناں چو نیست زخم مروز جاں اگر بسوزدت گو بسوز والسلام خاکسار غلام احمد آپ کی ملاقات کا از بس شوق ہے ۔ اگر وطن جانے کا اتفاق پیش آ جاوے تو ضرور مجھ کو مل کر جاویں۔ نوٹ: اس خط پر بھی کوئی تاریخ درج نہیں ہے مگر سرمہ چشم آریہ کی بعض اغلاط کی اصلاح کے متعلق ذکر بتاتا ہے کہ یہ خط سرمہ چشم آریہ کی اشاعت کے بعد کا ہے اور یقیناً ۱۸۸۷ء کا ہے ۔ اس خط کے مطالعہ سے بعض خاص باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اول : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت میں کامل درجہ کی انکساری اور صاف باطنی ہے۔ دوم : حضرت حکیم الامۃ کی طبیعت میں کمال درجہ کا ادب حضرت کیلئے ہے۔ انہوں نے جو کارڈ ایک علمی امر کی دریافت کے متعلق لکھا ہے اسے واپس منگوا لیا کہ مبادا وہ ادب کے خلاف نہ ہو اور معترضا نہ رنگ اس میں نہ پایا جاوے۔ اور ایسی یادگار ایک قبیح یادگار ہو گی ۔ سوم : یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت اپنی تمام تر توجہ الی اللہ رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور تکلیف کو پوری لذت اور ذوق سے برداشت کرنے کی اہلیت حاصل کر چکے تھے اور اسی لئے ہر قسم کے حزن اور کسل کے مقام سے نکل کر آپ جنت میں تھے ۔ (عرفانی ) ا حم السجدہ : ۳۱ تا ۳۳