مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 233
مکتوبات احمد ۲۳۳ جلد دوم شریک ہو جاتے کہ جو خدا تعالیٰ تیار کر رہا ہے ۔ مگر افسوس کہ آپ کی بعض مجبوریوں سے یہ خواہش ہے۔ ظہور میں نہ آئی ۔ اس کا مجھے بہت افسوس ہے ۔ میں نے کچھ دن ہوئے خواب میں آپ کی نسبت کچھ بلا اور غم کو دیکھا تھا۔ ایسے خوابوں اور الہاموں کو کوئی ظاہر نہیں کر سکتا ۔ مجھے اندیشہ تھا آخر اس کا یہ پہلو ظاہر ہوا۔ یہ تقدیر مبرم تھی جو ظہور میں آئی ۔ معلوم ہوتا ہے علاج میں بھی غلطی ہوئی۔ یہ رحم کی بیماری تھی اور باعث کم دنوں میں پیدا ہونے کے زہر یلا مواد رحم میں ہو گا ۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو علاج یہ تھا کہ ایسے وقت پچکاری کے ساتھ رحم کی راہ سے آہستہ آہستہ یہ زہر نکالا جاتا اور تین چار دفعہ روز پچکاری ہوتی اور کیسٹر آئل سے خفیف سی تلین طبع بھی ہوتی ۔ اور عنبر اور مشک وغیرہ سے ہر وقت دل کو قوت دی جاتی ۔ اور اگر خون نفاس بند تھا تو کسی قدر رواں کیا جاتا اور اگر بہت آتا تھا تو کم کیا جاتا۔ اور نر بسی اور ہینگ وغیرہ سے شیخ اور غشی سے بچایا جا تا ۔ لیکن جب کہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا تو ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ پہلی دو تاریں ایسے وقت میں پہنچیں کہ میرے گھر کے لوگ سخت بیمار تھے اور اب بھی بیمار ہیں ۔ تیسرا مہینہ ہے۔ دست اور مروڑ ہیں ۔ کمزور ہو گئے ہیں ۔ بعض وقت ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ غشی پڑ گئی اور حاملہ کی غشی گویا موت ہے ۔ دعا کرتا ہوں ۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کے گھر کے لوگوں کے لئے مجھے دعا کا موقعہ بھی نہ ملا۔ تاریں بہت بے وقت پہنچیں ۔ اب میں یہ خط اس نیت سے لکھتا ہوں کہ آپ پہلے ہی بہت نحیف ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ بہت غم سے آپ بیمار نہ ہو جائیں ۔اب اس وقت آپ بہادر بنیں اور استقامت دکھلائیں ۔ ہم سب لوگ ایک دن نوبت به نوبت قبر میں جانے والے ہیں ۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ غم کو دل پر غالب ہونے نہ دیں۔ میں تعزیت کے لئے آپ کے پاس آتا۔ مگر میری بیوی کی ایسی حالت ہے کہ بعض وقت خطرناک حالت ہو جاتی ہے۔ مولوی صاحب کے گھر میں بھی حمل ہے۔ شاید چھٹا سا تواں مہینہ ہے ۔ وہ بھی آئے دن بیمار رہتے ہیں ۔ آج مرزا خدا بخش صاحب بھی لاہور سے قادیان آئے ۔ شاید اس خط سے پہلے آپ کے پاس پہنچیں ۔ والسلام ۱۸ نومبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرز اغلام احمد از قادیان