مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 227

مکتوبات احمد ۲۲۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۹ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالی ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه روپیہ ۔ ر معه مبلغ دو سور و پیہ مجھ کو ملا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر ایک مرض اور غم سے نجات بخشے ۔ آمین ثم آمین ۔ خط میں سو روپیہ لکھا ہوا تھا اور حامل خط نے دوسو روپیہ دیا۔ اس کا کچھ سبب معلوم نہ ہوا۔ میں عنقریب دوائی طاعون آپ کی خدمت میں مع مرہم عیسیٰ روانہ کرتا ہوں اور جس طور سے یہ دوائی استعمال ہوگی ۔ آج اس کا اشتہار چھاپنے کی تجویز ہے۔ امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اشتہار ہمراہ بھیج دوں گا دوں گا ۔ بہتر ہے کہ یہ دوا ابھی سے آپ شروع کر دیں ۔ کیونکہ آئندہ موسم بظاہر وہی معلوم ہوتا ہے ۔ جو کچھ الہاماً معلوم ہوا تھا ۔ وہ خبر بھی اندیشہ ناک ہے ۔ میرے نزدیک ان دنوں میں دنیا کے عموم و ہموم کچھ مختصر کرنے چاہئیں ۔ دن بہت سخت ہیں جہاں تک ممکن ہو آپ اپنے بھائیوں کو بھی نصیحت کریں اور اگر وہ باز نہ آویں تو آپ کا فرض ادا ہو جائے گا اور جو گلٹیاں آپ کے نکلی ہیں ۔ وہ انشاء اللہ سینک دینے اور دوسری تدبیروں سے، جو مولوی صاحب تحریر فرمائیں گے ، اچھی ہو جائیں گی ۔ ان دنوں التزام نماز ضروری ہے مجھے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ دن دنیا کے لئے بڑی بڑی مصیبتوں اور موت اور دکھ کے دن ہیں ۔ اب بہر حال متنبہ ہونا چاہئے ۔ عمر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ۔ میں نے خط کے پڑھنے کے بعد آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ قبول فرمائے گا ۔ مجھے اس بات کا خیال ہے کہ اس شور قیامت کے وقت جس کی مجھے الہام الہی سے خبر ملی ہے۔ حتی الوسع اپنے عزیز دوست قادیان میں ہوں ۔ مگر سب بات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ زیادہ خیریت ہے ۔ والسلام ۲۱ جولائی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ