مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 218
مکتوبات احمد ۲۱۸ جلد دوم میں اس شخص کے اصل حالات سے واقف نہیں کہ کس طبیعت اور چال چلن کا آدمی ہے۔ ظاہراً کس یک دنیا دار پولیٹکل مین ہے۔ روحانیت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّواب ۔ والسلام ۱۱ رمئی ۱۸۹۷ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مرتب: تاریخ یکم مئی ہے یا ا ارمئی ۔ حضور بعض جگہ تاریخ کے ساتھ خط بشکل خط ڈالتے ہیں بعض جگہ نہیں ۔ اگر یہ خط سمجھا جائے تو یکم مئی ہے ورنہ ۱۱ رمئی ، ۵ر نومبر ۹۸ء کے مکتوب میں یہ خط حضور نے نہیں کھینچا مگر مارچ ۱۸۹۶ء کے مکتوب کی تاریخ کے ساتھ کھینچا ہے۔ اس مکتوب سے یہ تو ظاہر ہے کہ حسین کامی سفیر ترکی کے قادیان آنے کے بعد کا ہے۔ اس کی آمد کی معین تاریخ معلوم ہونے سے اس مکتوب کی تاریخ کی صحت کا علم ہو سکتا ہے۔ حضور کے ایک اشتہار سے صرف اس قدر علم ہو سکا ہے کہ اس نے قادیان سے واپسی کے بعد شیعہ اخبار ناظم الہند لاہور بابت ۱۵ رمئی ۱۸۹۷ء میں حضور کی نسبت نا مناسب باتیں شائع کی تھیں ۔ مزید معلوم ہوا کہ یہ ا ارمئی ہے کیونکہ مئی میں حسین کامی لاہور آئے اور کئی روز کے بعد قادیان آئے ۔