مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 215

مکتوبات احمد ۲۱۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۹ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمه تعالی ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مبلغ دو سو روپیہ کے نصف نوٹ آج کی تاریخ آگئے ۔ عمارت کا یہ حال ہے کہ تخمینہ کیا گیا ہے کہ نو سور و پیر تک پہلی منزل جس پر مکان مقصود بنانے کی تجویز ہے، ختم ہو گی ۔ کل صحیح طور پر اس تخمینہ کو جانچا گیا ہے ۔ اب تک ۔۔۔۔۔۔ روپیہ تک لکڑی اور اینٹ اور چونہ اور مزدوروں کے بارے میں خرچ ہوا ہے۔ معماران کی مزدوری ۔۔۔ سے الگ ہے۔ اس لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی منزل کے تیار ہونے کے بعد بالفعل عمارت کو بند کر دیا جاوے۔ کیونکہ کوئی صورت اس کی تکمیل کی نظر نہیں آتی ۔ یہ اخراجات گویا ہر روز پیش آتے ہیں ۔ ان کے لئے اوّل سرمایہ ہو تو پھر چل سکتے ہیں ۔ شاید اللہ جل شانہ اس کا کوئی بند و بست کر دیوے۔ بالفعل اگر ممکن ہو سکے تو آں محب بجائے پانچ سو روپیہ کے سات سو روپیہ کی امداد فرماویں۔ دوسو روپیہ کی جو کمی ہے وہ کنویں کے چندہ میں سے پوری کر دی جاوے گی اور بالفعل کنواں بنانا موقوف رکھا جاوے گا ۔ پس اگر سات سو روپیہ آپ کی طرف سے ہو۔ اور دوسور و پیہ کنویں کے اس طرح پر نو سور و پیر تک پہلی منزل انشاء اللہ پوری ہو جائے گی ۔ اور کیا تعجب ہے کچھ دنوں کے بعد کوئی اور صاحب پیدا ہو جائیں تو وہ دوسری منزل اپنے خرچ سے بنوا دیں۔ نیچے کی منزل مردانہ رہائش کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ زنانہ مکان سے ملی ہوئی ہے مگر اوپر کی منزل اگر ہو جائے تو عمدہ ہے ۔ مکان مردانہ بن جائے گا جس کی لاگت بھی اسی قدر یعنی نوسو یا ہزار روپیہ ہو گا ۔ میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو اس وقت میں نے تکلیف دی اور ذاتی طور پر مجھ کو کسی مکان کی حاجت نہیں ۔ خیال کیا گیا تھا کہ نیچے کی منزل میں ایسی عورتوں کے لئے مکان تیار ہو گا جو مہمان کے طور پر آئیں اور اوپر کی منزل مردانہ مکان ہو ۔ سو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس خیال کو پورا کر دے گا ۔ والسلام ۴ رمتی ۱۸۹۷ء خاکسار غلام احمد