مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page ii of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page ii

III پیش لفظ انسانی تمدن و معاشرت اور باہمی تعلقات میں خطوط کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ تقاریر اور تصنیفات بھی اگر چہ دوسروں پر اپنے خیالات و جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں لیکن خطوط میں اور خصوصاً ان خطوط میں جو انسان اپنے دوستوں کو لکھتا ہے بغیر کسی تکلف کے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار پایا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاص محبتوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ آپ کے اپنے دوستوں کو لکھے گئے یہ خطوط جہاں ان خوش قسمت رفقاء کے لئے انمول خزانہ تھے وہاں جماعت کے لئے بھی ایک قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خطوط سے جہاں ان صحابہ کی عظمت اور عالی مرتبت کا اظہار ہوتا ہے وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت پر بھی روشنی پڑتی ہے اور آپ کے دل میں اپنے رفقاء کے لئے قدر اور محبت کے جذبات کا پتہ چلتا ہے اور بہت سے ایسے امور اور مسائل کا بھی علم ہوتا ہے جو انسانی زندگی میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اور زندگی کے نشیب و فراز میں گراں قدر رہنمائی کا موجب بنتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عمومی رنگ میں اپنے صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کئی وجوہ ۔ وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ ر اعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو آخَرِينَ مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا ۔ (ایا نا ایام اصلح - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۶ ۳۰ ، ۳۰۷) مکتوبات کی یہ جلد جو مکتوبات احمد جلد دوم کے نام سے موسوم ہے ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چار جلیل القدر صحابہ القدر صحابہ کے نام خطوط پر مشتمل ہے۔ ان صحابہ کبار کی تفصیل درج ذیل ہے۔