مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 186

مکتوبات احمد ۱۸۶ جلد دوم نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا تب آخر ہو گا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی ۔ اس سے جا۔ معلوم ہوا کہ مسیح کی اُمت کی نالائق کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔ اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمد یہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے اور جو احادیث میں آیا ہے مہدی پیدا ہو گا اور اس کا نام میرا ہی نام ہو گا اور اس کا خلق میرا ہی خلق ہوگا ۔ اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اسی نزول روحانیت کی طرف اشارہ ہے لیکن وہ نزول کسی خاص فرد میں محدود نہیں ۔ صد ہا ایسے لوگ گزرے ہیں جن میں حقیقت محمد ی تحقق تھی اور عند اللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔ لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مرحومہ ان فسادوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہی ہے جو حضرت عیسیٰ کی اُمت کو پیش آئے اور آج تک ہزارہا صلحاء اور اتقیاء اس اُمت میں موجود ہیں کہ جو محبہ دنیا کی طرف پشت دے کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ پنج وقت تو حید کی اذان کی مساجد میں ایسی گونج پڑتی ہے کہ آسمان تک محمدی توحید کی شعاعیں پہنچتی ہیں ۔ پھر کون موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کو ایسا جوش آتا جیسا کہ حضرت مسیح کی روح میں عیسائیوں کے دل آزار وعظوں اور نفرتی کاموں اور مشر کا نہ تعلیموں اور نبوت میں بیجا دخلوں اور خدائے تعالیٰ کی ہمسری کرنے نے پیدا کر دیا۔ اس زمانہ میں یہ جوش حضرت موسیٰ کی روح کو بھی اپنی اُمت کے لئے نہیں آسکتا تھا کیونکہ وہ تو نابود ہوگئی ۔ اور اب صفحہ دنیا میں ذریت ان کی بجز چند لاکھ کے باقی نہیں اور وہ بھی ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنة لے کے مصداق اور اپنی دنیا داری کے خیالات میں غرق اور نظروں سے گرے ہوئے ہیں لیکن عیسائی قوم اس زمانہ میں چالیس کروڑ سے کچھ زیادہ ہے اور بڑے زور سے اپنے دجالی خیالات کو پھیلا رہی ہے اور صدہا پیرایوں میں اپنے شیطانی منصوبوں کو دلوں میں جاگا جاگزین کر رہی ہے۔ بعض واعظوں کے رنگ میں پھرتے ہیں ۔ بعض گویئے بن کر گیت گاتے ہیں ۔ بعض شاعر بن کر تثلیث کے متعلق غزلیں سناتے ہیں ۔ بعض جوگی بن کر اپنے خیالات کو شائع کرتے پھرتے ہیں ۔ بعض نے یہی خدمت لی ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں البقره: ٦٢