مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 184
مکتوبات احمد ۱۸۴ جلد دوم بجائے اس کے کہ لوگ مینہہ کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کریں یا استسقاء کی نماز پڑھیں ، گورنمنٹ میں ایک عرضی دے دیں کہ فلاں کھیت میں مینہ برسایا جائے ۔ اور یورپ میں یہ کوشش ہو رہی ہے ۔ کہ نطفہ رحم میں ٹھہرانے کے لئے کوئی کل پیدا ہو۔ اور نیز یہ بھی کہ جب چاہیں لڑکا پیدا کر لیں اور جب چاہیں لڑکی ۔ اور ایک مرد کا نطفہ لے کر اور کسی پچکاری میں رکھ کر کسی عورت کے رحم میں چڑھا دیں اور اس تدبیر سے اس کو حمل کر دیں ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ یہ خدائی پر قبضہ کرنے کی فکر ہے یا کچھ اور ہے؟ اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ دجال اول نبوت کا دعوی کرے گا پھر خدائی کا ۔ اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ چند روز نبوت کا دعوی کر کے پھر خدا بننے کا دعویٰ کرے گا تو یہ معنی صریح باطل ہیں کیونکہ جو شخص نبوت کا دعوی کرے گا ، اس دعوی میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اور نیز خلق الله کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک اُمت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔ اب سمجھنا چاہئے کہ ایسا دعوی کر کرنے والا اس اُمت رو ؟ کے رو برو خدائی کا دعویٰ کیونکر کر سکتا ہے؟ کیونکہ وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تو بڑا مفتری ہے۔ پہلے تو کرسکتا خدائے تعالی کا اقرار کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام ہم کو سنا تا تھا اور اب اس سے انکار ہے اور اب آپ ہو خدا بنتا ہے ۔ پھر جب اوّل دفعہ تیرے ہی اقرار سے تیرا جھوٹ ثابت ہو گیا تو دوسرا دعوی کیونکر ۔ سچا سمجھا جائے ۔ جس نے پہلے خدائے تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کر لیا اور اپنے تئیں بندہ قرار دے دیا اور بہت سا الہام اپنا لوگوں میں شائع کر دیا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے وہ کیونکر ان تمام اقرارات سے انحراف کر کے خدا ٹھہر سکتا ہے اور ایسے کذاب کو کون قبول کر سکتا ہے؟ سو یہ معنی جو ہمارے علماء لیتے ہیں ، بالکل فاسد ہیں ، صحیح معنی یہی ہیں کہ نبوت کے دعوئی سے مراد دخل در امورِ نبوت اور خدائی کے دعوی سے مراد دخل در امور خدائی ہے جیسا کہ آجکل عیسائیوں سے یہ حرکات ظہور میں آ رہی ہیں ۔ ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا توڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اس پر آیتیں نازل ہو رہی ہیں اور ایک فرقہ خدائی کے کاموں میں اس قدر دخل دے رہا ہے کہ گویا وہ خدائی کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے ۔ غرض یہ دجالیت عیسائیوں کی اس زمانہ میں کمال درجہ تک پہنچ گئی ہے اور اس کے قائم کرنے