مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 181
مکتوبات احمد ۱۸۱ جلد دوم منسوب کی جاتی ہیں ۔ اور ناحق کا جھوٹ افتراء کر کے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ تمام کفر اور بدکاری کی باتیں اس نبی نے ہی سکھلائی تھیں تو اس نبی کے دل میں ان فسادوں اور تہمتوں کے دُور کرنے کے لئے ایک اشد توجہ اور اعلیٰ درجہ کا جوش پیدا ہو جاتا ہے ۔ تب اس نبی کی روحانیت تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قائم مقام اس کا زمین پر پیدا ہو۔ اب غور سے اس معرفت کے دقیقہ کو سنو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔ اوّل جبکہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ ، مگار اور کا ذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا اور عیسائیوں نے اس بات پر غلو کیا کہ وہ خدا تھا اور خدا کا بیٹا تھا اور دنیا کو نجات دینے کے لئے اس نے صلیب پر جان دی ۔ پس جبکہ مسیح علیہ السلام کی بابرکت شان میں نابکار یہودیوں نے نہایت خلاف تہذیب جرح کی اور بموجب توریت کی اس آیت کے جو کتاب استثناء میں ہے کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے، نعوذ باللہ ، حضرت مسیح علیہ السلام کو لعنتی قرار دیا اور مفتری اور کا ذب اور نا پاک پیدائش والا ٹھہرایا اور عیسائیوں نے ان کی مدح میں اطراء کر کے ان کو خدا ہی بنا دیا اور ان پر یہ تہمت لگائی کہ یہ تعلیم انہیں کی ہے ۔ تب یہ اعلام الہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بیجا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت کی گواہی دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خود مسیح نے یوحنا کی انجیل کے ۱۶ باب آیت : ۷ تا ۱۶ میں کہا ہے کہ ” لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ۔ اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے ۔ راستبازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا۔ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی