مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 178

مکتوبات احمد ۱۷۸ جلد دوم ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔ غرض نظر دقیق سے صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیا کا شیوہ ہے۔ ہا ۔ جس کی وجہ سے کروڑ ہا منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا ۔ وہ جیسا کہ اس نے فرما دیا ہے ان ہی کے ایمان کو ایمان سمجھتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے اور قرائن مرجحہ کو دیکھ ، ، کر اور علامات صدق پا کر صادق کو قبول کر لیتے ہیں اور صادق کا کلام ، صادق کی راستبازی ، صادق کی استقامت اور خود صادق کا منہ ان کے نزدیک اس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے ۔ مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔ ماسوا اس کے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے ۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی نا سمجھی ہے کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کراویں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں ۔ لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں ہے۔ وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔ وہی نمازیں ہیں جو پہلے تھیں ۔ وہی رسول مقبول صلی اللہ اللہ علیہ وسلم ہے جو پہلے تھا اور وہی کتاب کریم ہے جو پہلے تھی ۔ اصل دین میں سے کوئی ایسی بات چھوڑنی نہیں پڑی جس سے اس قدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعوی اس حالت میں گراں اور قابلِ احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس دعوی کے ساتھ نعوذ باللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی ۔ اب جبکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں ۔ صرف ما بہ النزاع حیات مسیح اور وفات مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ اس مسئلہ کی در حقیقت ایک فرع ہے اور اس دعولٰی سے مراد کچھ عملی انقلاب نہیں اور نہ اسلامی اعتقادات پر اس کا کچھ مخالفانہ اثر ہے۔ تو کیا اس دعوی کے تسلیم کرنے کے لئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے؟ جس کا مانگنا رسالت کے دعوئی میں عوام کا قدیم شیوہ ہے۔ ایک مسلمان جسے تائید اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا۔ جس کے مقاصد یہ ہیں کہ تا دین اسلام کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اور آج کل کے فلسفی وغیرہ الزاموں سے اسلام کا پاک ہونا ثابت کر دیوے اور مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی محبت کی طرف رجوع دلاوے۔ کیا اس کا قبول کرنا ایک منصف مزاج اور خدا ترس آدمی پر کوئی مشکل امر ہے؟