مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 173
مکتوبات احمد ۱۷۳ جلد دوم دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہ لائے ۔ کیونکہ وہ نشان دیکھنے سے پہلے تکذیب کر چکے تھے۔ اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے جو اس قسم کے کافر ہیں جو نشان سے پہلے ایمان نہیں لاتے ۔ یہ تمام آیتیں اور ایسا ہی اور بہت سی آیتیں قرآن کریم کی ، جن کا اس وقت لکھنا موجب طوالت ہے ، بالا تفاق بیان فرما رہیں ہیں کہ نشان کو طلب کرنے والے مورد غضب الہی ہوتے ہیں اور جو شخص نشان دیکھنے سے ایمان لاوے اس کا ایمان منظور نہیں ۔ اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول یہ کہ نشان طلب کرنے والے کیوں مورد غضب الہی ہیں ۔ جو شخص اپنے اطمینان کے لئے یہ آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ یہ شخص منجانب اللہ ہے یا نہیں؟ بظاہر وہ نشان طلب کرنے کا حق رکھتا ہے تا دھو کہ نہ کھاوے اور مردو دالہی کو مقبول الہی خیال نہ کر لیوے۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ تمام ثواب ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ اور ایمان ۔ اور ایمان اسی بات کا نام ہے کہ جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرتبہ کے لحاظ سے قبول کیا جائے ۔ یعنی اس قدر دیکھ لیا جائے کہ مثلاً صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں اور قرائن موجودہ ایک شخص کے صادق ہونے پر بہ نسبت اس کے کا ذب ہونے کے بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ یہ تو ایمان کی حد ہے لیکن اگر اس حد سے بڑھ کر کوئی شخص نشان طلب کرتا ہے تو وہ عنداللہ فاسق ہے اور اسی کے بارے میں اللہ جلتا نہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کو ایمان نفع نہیں دے گا ۔ یہ بات سوچنے سے جلد سمجھ میں آسکتی ہے کہ انسان انسان ایمان لانے سے کیوں خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ جن چیزوں کو ہم ایمانی طور پر قبول کر لیتے ہیں وہ بكل الوجوہ ہم پر مکشوف نہیں ہوتیں مثلاً انسان خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے مگر اس کو دیکھا نہیں ۔ فرشتوں پر بھی ایمان لاتا ہے لیکن وہ بھی نہیں دیکھے ۔ بہشت اور دوزخ پر ایمان لاتا ہے اور وہ بھی نظر سے غائب ہیں ، محض حُسنِ ظن سے مان لیتا ہے اس لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہر جاتا ہے اور یہ صدق اس کے لئے موجب نجات ہو جاتا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بہشت اور دوزخ اور ملائک ایک مخلوق خدائے تعالیٰ کی ہے، ان پر ایمان لانا نجات سے کیا تعلق رکھتا ہے۔ جو چیز واقعی طور پر موجود ہے اور بدیہی طور پر اس کا موجود ہونا ظاہر ہے اگر ہم اس کو موجود مان لیں تو کس اجر کے ہم مستحق ٹھہر سکتے ہیں ۔ مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ آفتاب کے وجود پر ایمان لائے اور زمین پر ایمان