مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 170
مکتوبات احمد ۱۷۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۸ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی و عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک ہفتہ سے بلکہ عشرہ سے زیادہ گزر گیا کہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا تھا۔ چونکہ اس میں امور مستفسرہ بہت تھے اور مجھے باعث تالیف کتاب آئینہ کمالات اسلام بغایت درجہ کمی فرصت تھی ۔ کیونکہ ہر روز مضمون تیار کر کے دیا جاتا ہے۔ اس لئے میں جواب لکھنے سے معذور رہا اور آپ کی طرف سے تقاضا بھی نہیں تھا۔ آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ آپ ایک خالص محب ہیں اور آپ کا استفسار سراسر نیک ارادہ اور نیک نیت پر مبنی ہے اس لئے بعض امور سے آپ کو آگاہ کرنا اور آپ کے لئے جو بہتر ہے اُس سے اطلاع دینا ایک امر ضروری ہے۔ لہذا چند سطور آپ کی آگاہی کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں ۔ ل یہ سچ ہے کہ جب سے اس عاجز نے مسیح موعود ہونے کا دعوی بامر اللہ تعالیٰ کیا ہے۔ تب سے وہ لوگ جو اپنے اندر قوت فیصلہ نہیں رکھتے عجب تذبذب اور کشمکش میں پڑ گئے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہو سکتا مباہلہ کے لیے اب طیار ہونا چاہیے اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی ن بھی دکھلانا چاہئے ۔ نشار (۱) مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ جل شانہ نے اجازت دے دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کے ارادہ کا تو ارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی ۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب اجازت دینے میں حکمت یہ ہے کہ اوّل حال میں صرف اس لئے مباہلہ نا جائز تھا کہ ابھی مخالفین کو بخوبی سمجھا یا نہیں گیا تھا اور وہ اصل حقیقت سے سراسر نا واقف تھے اور تکفیر پر بھی ان کا وہ جوش نہ تھا جو بعد اس کے ہوا۔ لیکن اب تالیف آئینہ کمالات اسلام کے بعد تفہیم اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اب اس کتاب کے دیکھنے سے ایک ادنی استعداد کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مخالف لوگ اپنی رائے میں سراسر خطا پر ہیں ۔ اس لئے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مباہلہ کی درخواست کو