مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 162
مکتوبات احمد ۱۶۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۵ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میرے پیارے دوست نواب محمدعلی خان صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا ۔ جس کو میں نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف حرف پڑھا۔ میری نظر میں طلب ثبوت اور استكشاف حق کا طریقہ کوئی ناجائز اور ناگوار طریقہ نہیں ہے بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطۂ مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں ۔ لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے ناخوش نہیں ہوا بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے ۔ ایسی اب میں آپ پر واضح کرتا ہوں کہ میں نے مباہلہ سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا۔ اگر امر متنازعہ فیہ میں قرآن اور حدیث کی رو سے مباہلہ جائز ہو تو میں سب سے پہلے مباہلہ کے لئے کھڑا ہوں ۔ لیکن صورت میں ہرگز مباہلہ جائز نہیں جب کہ فریقین کا یہ خیال ہو کہ فلاں مسئلہ میں کسی فریق کے اجتہاد یا فہم یا سمجھ کی غلطی ہے۔ کسی کی طرف سے عمداً افتراء یہ دروغ باقی نہیں کیونکہ اگر مجرد ایسے اختلافات میں جو قطع نظر مصیب یا مخطی ہونے کے صحت نیت اور اخلاص اور صدق قدم پر بینی ہیں ۔ مباہلہ جائز ہوتا اور خدا تعالیٰ ہر یک جزئی اختلاف کی وجہ سے مخطی پر عند المباہلہ عذاب نازل کرتا تو آج تک تمام اسلام کا روئے زمین سے خاتمہ ہو جاتا۔ کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مباہلہ سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جو فریق حق پر نہیں اس پر عذاب نازل ہو۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ اجتہادی امور میں مثلاً کسی جزئی میں حنفی حق پر ہیں اور کسی میں شافعی حق پر اور کسی میں اہلِ حدیث ۔ اب جب کہ فرض کیا جائے کہ سب فرقے اسلام کے جزئی اختلافات کی وجہ سے باہم مباہلہ کریں اور خدا تعالیٰ اس پر ، جو حق پر نہیں ، عذاب نازل کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنی اپنی خطا کی وجہ سے تمام فرقے پنی اپنی خطا کی وجہ سے تمام فرقے اسلام کے روئے زمین سے نابود کئے جائیں ۔ اب ظاہر ہے کہ جس امر کے تجویز کرنے سے اسلام کا