مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 150
مکتوبات احمد ۱۵۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت عزیزی اخویم خان صاحب محمد علی خان صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچ کر بموجب مسرت و انشراح خاطر ہوا ۔ اگر چہ طبیعت اس عاجز کی کسی قدر علیل تھی اور نیز ضعف بہت تھا مگر میں نے نہ چاہا کہ آپ کو بہت انتظار میں رکھوں اس لئے بلحاظ اختصار آپ کے سوالات کا جواب دیتا ہوں ۔ ، (1) جو شخص اس عاجز سے بیعت کرے اس کو قال اللہ اور قال الرسول کا پابند ہونا ضروری ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ حنفی ہو یا شافعی وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ نہایت ضروری ہے کہ اللہ جل شانہ کے کلام عزیز پر ایمان لاوے اور جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرے اور آثار صحیحہ نبویہ کا اتباع کرے۔ (۲) بیعت کرنے والے کے لئے ان عقائد کا ہونا ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول برحق اور قرآن شریف منجانب اللہ کتاب اور جامع الکتب ہے کوئی نئی شریعت اب نہیں آسکتی اللہ ہے اور نہ کوئی نیا رسول آسکتا ہے مگر ولایت اور امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آگے آئیں گے ان کا شمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے وحی رسالت ختم ہوگئی مگر ولایت و امامت و خلافت حلقہ کبھی ختم نہیں ہوگی ۔ یہ سلسلہ ائمہ راشدین اور خلفاء ر با مبین ربانیین کا کبھی بند نہیں ہوگا۔ کسی کو گزشتہ لوگوں میں سے بجز رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع فضائل و کمالات میں بے مثل نہیں کہہ سکتے اور ممکن نہیں کہ کسی کمال یا کسی نوع کی خدمت گزاری میں آئندہ اس سے بہتر پیدا ہو۔ ہاں ! جز کی فضیلت کے لحاظ سے بعض لوگ بے مثل ٹھہر سکتے ہیں جیسے صحابہ اور اہلِ بیت کی یہ فضیلت جو انہوں نے زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی کے وقت میں ایسی وفاداری دکھلائی کہ اپنے خونوں کو پانی کی طرح بہا دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور اس چہرہ سے عاشقانہ طور پر زندگی بسر کی اور اسلام پر پہلے پہل مخالفوں کے حملے ہوئے تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر ان کو روکا اور اسلام کو زمین پر جمایا اور اسلامی کران اور ہدایتوں کو زمین پر پھیلایا اور کفر کے زور کو مٹایا اور قرآن شریف کو دیانت اور امانت سے جمع کر کے