مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 147

مکتوبات احمد ۱۴۷ جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکتوبات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ مکتوب نمبرا ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از طرف عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاه الله واید با خویم محمد علی خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط پہنچا۔ اس عاجز نے جو بیعت کے لئے لکھا تھا وہ محض آپ کے پہلے خط کے حقیقی جواب میں واجب ۔ واجب سمجھ کر تحریر ہوا تھا کیونکہ آپ کا پہلا خط اس سوال پر متضمن تھا کہ پر معصیت حالت سے کیونکر رستگاری ہو ۔ سو جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس عاجز پر القا کیا، تحریر میں آیا اور فی الحقیقت جذبات نفسانیہ سے نجات پانا کسی کے لئے بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ عاشق زار کی طرح خاکپائے محبانِ الہی ہو جائے اور بصدق وارادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے جس کی روح کو روشنی بخشی گئی ہے تا اس کے چشمہ صافیہ سے اس فرد ماندہ کو زندگی کا پانی پہنچے اور اس تر و تازہ درخت کی ایک شاخ ہو کر اس کے موافق پھل لاوے۔ غرض آپ نے اپنے پہلے خط میں نہایت انکسار اور تواضع سے اپنے روحانی علاج کی درخواست کی تھی ۔ سو آپ کو وہ علاج بتلایا گیا تھا جس کو سعید آدمی تھا بصد شکر قبول کرے گا مگر معلوم ہوتا ہے کہ ابھی آپ کا وقت نہیں آیا ۔ معلوم نہیں کہ ابھی کیا کیا دیکھنا ہے اور کیا کیا ابتلا در پیش ہے۔ اور یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ میں شیعہ ہوں اس لئے میں بیعت نہیں کر سکتا ۔ سو آپ کو اگر صحبت فقراء کاملین میسر ہو تو آپ خود ہی سمجھ لیں کہ شیعوں کا یہ عقیدہ کہ ولایت اورامامت بارہ اماموں پرختم ہو چکی ہے اور اب خدا تعالیٰ کی یہ نعمت آگے نہیں ہے بلکہ پیچھے رہ گئی ہے