مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 110
مکتوبات احمد ۱۱۰ جلد دوم کچھ لکھ چکا ہے بہر حال اگر آں مخدوم مصلحت وقت سمجھیں تو میں حاضر ہو سکتا ہوں بشرطیکہ طبیعت اس دن علیل نہ ہو۔ میاں عبدالحق صاحب نے جو پنجاب اور ہندوستان میں بسعی مولوی عبدالجبار صاحب شائع کئے ہیں جن میں مباہلہ کی درخواست ہے۔ ان اشتہارات سے لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑا ہے۔ سو میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی فیصلہ ہو جائے اور ان کے الہامات کا فیصلہ خدا تعالیٰ آپ کر دے گا۔ اس جلسہ کی بناء سید فتح علی شاہ صاحب کی طرف سے ہے اور وہ بہر حال ۱۲ مارچ ۱۸۹۱ء کو حج کے لئے روانہ ہو جائیں گے اور گیاراں مارچ تک ہم کسی صورت میں پہنچ نہیں سکتے ۔ اگر یہ فتح علی شاہ صاحب دس دن اور اور ٹھہر جائیں تو اکیس مارچ ۱۸۹۱ ء تک یہ عاجز بآسانی امرتسر میں آ سکتا ہے۔ آئندہ جیسی مرضی ہو ۔ آں مخدوم کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔ اگر فرصت ہو اور ملاقات اسی جگہ ہو جائے تو نہایت خوشی کا موجب ہوگا۔ فضل الرحمن کی نسبت اس عاجز کو پہلے سے ظن نیک ہے ۔ ایک دفعہ اس کی نسبت سیهدی کا الہام ہو چکا ہے ۔ بعد استخارہ مسنونہ اگر اسی تجویز کو پختہ کر دیں تو میں بالطبع پسند کرتا ہوں ۔ قرابت اور خویش بھی ہے، جوان ہے۔ مولوی عبد الرحمن صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے معاملہ میں میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔ یہ عاجز ایک بندہ ہے۔ فیصلہ الہی کی انتظار کر رہا ہوں ۔ خدا تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں۔ بڑی خوشی ہو گی اگر آں مخدوم لودہا نہ میں تشریف لاویں پھر ضروری امور میں مشورہ کیا جائے گا ۔ ۱۹ مارچ ۱۸۹۱ء نوٹ: اس مکتوب میں جن سید فتح علی شاہ صاحب کا ذکر ہے وہ لاہور کے باشندے اور محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے۔ خان بہادر بھی تھے ۔ خاکسار عرفانی ذاتی طور پر انہیں جانتا ہے۔ اس لئے کہ جب وہ محکمہ نہر میں داخل ہوا ہے تو شاہ صاحب اس کے افسر تھے مگر ل تذکرہ صفحہ ۱۳۸۔ ایڈیشن چہارم