مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 106
مکتوبات احمد ١٠٦ جلد دوم بہت مکتوب نمبر ۷۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ محبی مخدومی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج مولوی محمد حسین صاحب نے صاف طور پر مخالفانہ خط بھیج دیا ہے جو آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں ۔ الحمد لله والمنة کہ ہر ایک قسم کے علماء و امراء عقلاء میں سے خدا تعالیٰ نے آپ کو چن لیا۔ وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۔ اس عاجز نے آپ کا مضمون غور سے پڑھا۔ عمدہ ہے۔ انشاء اللہ القدیر وہ تمام مضمون میں اسی رسالہ میں چھاپ دوں گا۔ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ ہماری مدد کرے گا ۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ کل پرانے کاغذات میں سے اتفاقاً ایک پرچہ نکلا ہے جس کے سر پر ۱۵ جنوری ۱۸۸۸ ءلکھا ہوا تھا ۔ اس میں یادداشت کے طور پر ایک خواب اس عاجز نے لکھی ہوئی ہے جس کا یہ مضمون تھا کہ مولوی محمد حسین نے ایک مخالفانہ مضمون چھپوایا ہے اور اس عاجز کی نسبت اس کی سرخی یہ رکھی ہے کہ کمینہ معلوم نہیں اس سے کیا مراد ہے۔ میں نے وہ مضمون دیکھ کر انہیں کہا کہ میں نے آپ کو منع کیا تھا ۔ آپ نے اس مضمون کو کیوں چھپوایا۔ میرے نزدیک وہ نالائق جوش دکھلائیں گے ۔ انہیں بہت کچھ اپنی علمیت پر ناز ہے مگر میں آپ کے لئے دعا کروں گا اور آپ کو اس کے رڈ کیلئے تکلیف دوں گا ۔ خدا تعالیٰ بلا شبہ آپ کی مدد کرے گا ۔ باقی سب خیریت ہے۔ ۱۹ رفروری ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ: یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعویٰ مسیحیت کے آغاز میں لکھا ہے ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مخالفت کا کھلا کھلا الٹی میٹم دیا اور آپ نے اس کی اطلاع حضرت حکیم الامت کو دی اور ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا بصیرت افروز یقین دلایا اور اپنی ایک پُرانی رؤیا کا حوالہ دیا ہے ۔ اس وقت چونکہ آپ کے مکاشفات کی