مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 100
مکتوبات احمد ١٠٠ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ ہمدست مفتی محمد صادق صاحب پہنچا۔ آئمکرم کے لاہی اخلاص کو دیکھ کر دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھ کو بھی ان حسنات کی توفیق بخشے ۔ بے شک آپ کی ہمت اور آپ کا عہد ایثار ایک رشک دلانے والی چیز ہے ۔ خدا تعالیٰ آپ کو دائمی سرور اور خوشحالی عطا کرے اور بہتوں کو آپ کے نمونہ پر چلا وے ۔ علالت 1 مولوی غلام علی صاحب کی طبیعت کا مجھے کچھ حال معلوم نہیں۔ مگر بے اختیار دل ان کی الت کی وجہ سے غمگین ہو جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ ان کی اس سخت بیماری کا خاتمہ روبصحت کرے۔ سے ۔ ۔ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر اے محمد بیگ کی طبیعت شاید ابھی بدستور ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مولوی صاحب تو کسی طور سے مجھ سے فرق نہیں کرتے مگر لنگر خانہ میں بعض وقت بھوک کے وقت مجھ کو روٹی نہیں ملتی شاید کثرت آدمیوں کی وجہ سے دیر سے روٹی ملتی ہے۔ چونکہ وہ لڑکا ہے، ایسی عمر میں اکثر لوگوں کو کھانے پینے میں ہی خیال رہتا ہے اس لئے مکلف ہوں کہ چند روز کے قیام میں خاص طور پر اس کی خبر رکھیں اور اگر اس کا جموں میں ٹھہر نا چنداں ضروری نہ ہو تو پھر تسلی اور مدارات کے ساتھ دوا دے کر اس کو اس طرف رخصت کر دیں ۔ اس کی نوکری اس حالت میں ہو سکتی ہے کہ حالت صحت اس کام کے لائق ہو۔ آئندہ آپ جیسا مناسب سمجھیں عمل میں لاویں۔ میں نے سنا ہے کہ میرے رسالہ کے دیکھنے سے مولوی عبدالجبار بہت برافروختہ ہوئے ۔ خدا تعالیٰ ان کو حقیقت کی طرف رہبری کرے ۔ زیادہ خیریت ۔ ۳۱ جنوری ۱۸۹۱ء ا الملک : ۲ والسلام خاکسار غلام احمد