مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 98
مکتوبات احمد ۹۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ صاحب صاحب : بہت تردد ہوا اور خط عنایت نامہ پہنچ کر بباعث شدت علالت طبع اخویم مولوی غلام علی صا۔ کے پڑھنے کے بعد جناب الہی میں بہت دعا کی گئی اور پھر رات کو بھی دعا کی گئی اور اسی طرح میں انشاء اللہ القدیر ، بہت جدو جہد سے دعا کروں گا ۔ آپ بھی ان کے حق میں دعا کریں اور ان کو مطمئن کریں کہ گو کیسے عوارض شدیدہ ہوں ، خدا تعالیٰ کے فضل کی راہیں ہمیشہ کھلی ہیں اس کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہئے ۔ ہاں اس وقت اضطراب میں تو بہ واستغفار کی بہت ضرورت ہے۔ یہ ایک نکتہ یا د رکھنے کے لائق ہے کہ جو شخص کسی بلا کے نزول کے وقت میں کسی ایسے عیب اور گناہ کو تو بہ نصوح کے طور پر ترک کر دیتا ہے جس کا ایسی جلدی سے ترک کرنا ہرگز اس کے ارادہ میں نہ تھا تو یہ عمل اس کے لئے ایک کفارہ عظیم ہو جاتا ہے اور اس کے سینہ کے کھلنے کے ساتھ ہی اس بلا کی تاریکی کھل جاتی ہے اور روشنی امید کی پیدا ہو جاتی ہے ۔ سو مولوی صاحب کو آپ بخوبی سمجھا دیں کہ جا دلی استغفار سے خدا تعالیٰ سے زیادہ ربط پیدا کر لیں ۔ اور مجھے جس قدر ان کے لئے تردد اور غم ہے خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور میں انشاء اللہ بہت دعا کروں گا ۔ خدا تعالیٰ ان پر فضل وارد کرے اور جلد تر صحت کامل بخش کر اس خوشخبری کو اس عاجز تک پہنچاوے ۔ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لا یہ عاجز باعث دوره مرض و علالت طبع کل لاہور نہیں جاسکا ، بالفعل میاں جان محمد کو بھیج دیا ہے کہ سلطان احمد کو اسی جگہ لے آوے ۔ اس عاجز کی طبیعت سفر کے لائق نہیں ۔ مرض دوران سر اور دل کے ڈوبنے کی یکدفعہ طاری حال ہو جاتی ہے ۔ پھر موت نصب العین معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت تو وہ ہاتھ پکڑ کرکھینچتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جو کچھ آں مخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟ در حقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت ا الملک ۲