مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 57

مکتوبات احمد ۵۷ مکتوب نمبر ا خط بنام اندر من مراد آبادی جلد اول اندر من مراد آبادی نے دعوت یکسالہ کیلئے چوبیس سو روپیہ مانگا تھا جو مسلمانوں کے ایک معزز ڈیپوٹیشن کے ہاتھ بھیجا گیا اور یہ خط ساتھ لکھا گیا مگر اندر من کہیں بھاگ گیا۔ آخر یہ خط شائع کیا گیا۔ (ایڈیٹر ) ۔ نقل اشتہار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوع خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے استاد و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی ) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھا کہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کرلو اور ز رموجود اشتہار پیشگی بنک میں داخل کر دو ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقیہ ذیل معہ دو ہزار چارسو رو پید نقد ایک جماعت اہل اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا ۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام خط روا نہ کیا تھا۔ اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں ۔ باوجود یکہ اُس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریر کیا تھا۔ یہ امر نہایت تعجب اور تردد کا موجب ہوا ۔ لہٰذا یہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اُس کی ایک کاپی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موجود بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔ ہے۔ وہ یہ منتقی اندر من صاحب ! آپ مشفقی اندر من صاحب ! آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ایک نئی بات لکھی ہے۔ جس کی اجابت مجھ کو اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے ۔ میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس کے سے ہے ۔ سے یہ عہد تھا کہ جو آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرادے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔ آپ اُس کے جواب میں