مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 672
مکتوبات احمد ۶۷۲ جلد اول سید مظہر حسین صاحب الہ آبادی جناب مولوی صاحب مخدوم و مکرم ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ سرفراز نامه شرف صدور لایا کا شف مندرجہ مضمون ہوا ۔ دفعہ دیکھنے سے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ آپ مقلد متکلمین ہیں۔ لیکن بعد غور کامل کے ایسا دریافت ہوا کہ اگر آپ مقلد متکلمین ہوتے تو میری حالت کو اچھا نہ کہتے اور صاف صاف زندیق وملحد فرما دیتے شاید آپ نے میرا امتحان لیا ہے جو خالق مخلوق کے فرق کی دلیل فرمائی ہے ۔ فقیران وجودیوں کو گمراہ جانتا ہے جو خالق مخلوق میں فرق نہیں کرتے۔ میرے نزدیک بلکہ محققین کے نزدیک وجود کے مراتب ہیں اور ہر مرتبہ کے احکام جدا گانہ ہیں ۔ ہر مرتبہ از وجود حکمے وارد گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی اللہ پاک نے اپنے کلام پاک میں انسان تین قسم کے فرماتے ہیں ۔ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرُت میں ان وجودیوں کا معتقد ہوں جو سابق بالخیرات کے زمرہ میں ہیں اور کبھی مقام نہیں کرتے اور رات دن ان کے دل سے رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کے کی صدا بلند ہوتی ہے ۔ اولیاءى تحت فتائي لا يعرفهم غیری ۔ ان کی شان میں آیا ہے جو لوگ وحدۃ الوجود ہمہ اوست کے قائل ہیں جہاں تک میری تحقیق ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ خالق مخلوق میں تغائر اعتباری ہے ۔ نفس الامر میں ایک چیز ہے ایک اعتبار سے اسی چیز کو خالق کہتے ہیں دوسرے اعتبار سے مخلوق ۔ لیکن یہ بات عقل کے سمجھنے سے پاک ہے۔ عقل اس کو ہرگز رہے مخلوق ۔ سے دریافت نہیں کر سکتی ۔ عشق کی حالت میں انسان اس کو سمجھ جاتا ہے یعنی جب انسان انا نیت کو دور انا کرے اور فنا کا مقام حاصل کرے اس وقت اس کو کامل یقین ہو جاتا ہے کہ ہمہ اوست ٹھیک ہے۔ ان کا قول ہے اللہ محسوس والخلق معقول اور یہ مرتبہ کامل یقین کا ہرگز اس شخص کو نہیں حاصل ہوتا جو اتباع سنت میں ناقص ہے ۔ البتہ یہ بات ہر شخص کو عقل سلیم سے دریافت ہو جاتی ہے جو قرآن وحدیث کے مطالب پر غور کرے کہ اللہ پاک نے ہمہ اوست کے اعتقاد کو سب احکام پر ل الفاطر: ۳۳ ۲ طه : ۱۱۵