مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 668 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 668

مکتوبات احمد ٦٦٨ جلد اول فَسَبِّحْنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْے اور قرآن شریف کے متفرق مقامات میں ذات باری کی یہ صفات قرار دی گئی ہیں کہ وہ مبدا ہے تمام فیضوں کا اور منبع ہے یازات : تمام طاقتوں کا اور متجمع ہے جمیع کمالات کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور قیوم ہے تمام چیزوں کا اور لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور لا یدرک ہے اپنے وجود کی گنہ میں اور اپنے کاموں کی گنہ میں ۔ وہ نزدیک ہے باوجود ڈوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔ سب کے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی چیز مماس ہے ۔ سب کی جان ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی چیز کا عین حقیقت ہے ۔ وہ غیر محدود ہے اور برتر ہے خیال سے اور گمان سے اور قیاس سے نظریں اس پر احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ نظروں پر محیط ہے کوئی بھی ایسی شے نہیں کہ اس کی مانند ہو۔ پس اس کے لئے تم مثالیں مت گھڑو۔ اب حاصل کلام کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وجود باری کو ایک ایسا برتر وَلَا يُدْرِكُ و مميز ذات قرار دیا ہے کہ کوئی شے اس کی مثل و مانند نہیں ہو سکتی اور لامحدود کو محدود سے کیا مشابہت اور قوی مطلق کو ضعیف محض سے کیا نسبت ۔ سو مخلوق عین خالق کا کیونکر ہو سکے اور خدائی قوتیں کہاں سے لاوے اور وجودیوں کے ہاتھ میں اس مسئلہ کے اثبات کے لئے شرعی یا قانونی یا عقلی کوئی ثبوت بھی نہیں صرف ایک ظن فاسد ہے ۔ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا قَالَ اللَّهُ تَقَدَّسَ وَتَعَالَى لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ، جن بزرگوں کو اپنے سلوک نا تمام اور کا نا تمام اور کشف خام کی وجہ سے یہ دھو کہ لگا ہے وہ تو ایک وجہ سے معذور معذور بھی تھے ۔ اسی وجہ سے : وجہ سے ہماری تمام ملامت سے جو اس خط میں ہم نے کی ہے وہ مستثنیٰ ہیں ۔ اور باوجود اس خطا کے ہم ان کو بزرگ ہی سمجھتے ہیں کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لطف و مرحمت نے اس غلطی پر انجام کارگو قریب موت ہی ہو۔ ان کو متنبہ کر دیا ہو گا جیسا کہ عین موت کے وقت مجد دسر ہندی کے مرشد اس غلطی پر متنبہ کئے گئے اور اپنے آخری وقت میں انہوں نے اس ضلالت کے خیال سے توبہ کی اور لوگوں کو اس تو بہ کا گواہ کیا۔ سو ہمارا دل بڑے استحکام سے شہادت دیتا ہے کہ محی الدین ابن العربی صاحب نے ل الانبياء : ۲۳ ۲ الشورى : ۱۲ ۳ النجم: ۲۹ بنی اسراءیل: ۳۷