مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 659
مکتوبات احمد ۶۵۹ جلد اول قائل ہوتا ہے ۔ مگر وہ لوگ بوجہ اس راز دقیق کے جو ان کو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے گم کے حکم میں ہیں ۔ تَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وه خلق اللهہ سے ہر وقت دور ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی اندرونی حالت میں تصرف کرنا اور ان کے اخلاق اور افعال اور اطوار کی نسبت کوئی رائے لگانا ہر ایک معمولی حالت کے انسان کا کام نہیں ورنہ ہلاک ہو جائے گا۔ چو بیت رہا کرو المقدس دروں پر ز تاب دیوار بیروں خراب و قولہ: آپ لکھتے ہیں کہ شیخ عبد القادر کو مجھ سے میرے طریق اور قدم میں مناسبت ہے مگر یہ بھی مثل دعوی مجددیت والہا میت دعوی بے دلیل ہے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک ۔ اقول: میں آپ پر کئی مرتبہ اسی خط میں واضح کر چکا ہوں کہ مجددیت اور الہا میت کا دعوی بے دلیل نہیں بلکہ میں نے اس حجت کو اس کمال تک پہنچایا ہے کہ اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا کہ جسمیں کوئی الہامی پیش گوئی پوری ہو کر مخالفوں پر حجت نہ ہو۔ دشمن بھاگتے چلے جاتے ہیں، مخالفوں پر سخت رعب پڑ رہا ہے اور انوار الہی دن رات بلکہ ہر طرفة العين میں برابر نازل ہو رہے ہیں ۔ مگر جو دل کے اندھے اور خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ " کے مصداق ہیں وہ کیونکر ان نوروں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ اِن شَرَّ الدَّوَابِ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ] لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغُفِلُونَ رہا آپ کا قول که چه نسبت خاک را با عالم پاک۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اور میرا برادر صالح شیخ عبد القادر ہم دونوں خاک ہی ہیں ۔ مگر الحمد لله والمنتہ کہ تجلیات الہیہ نے اس مشت خاک پر بڑے بڑے کام کئے ہیں ۔ اب اگر ایک وجودی نادان ان تجلیات کو دیکھ نہ سکے تو کیا حرج اور کیا نقصان ۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَتَقَدَّس - يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ۔ بہر حال ہم کو ایسے اقوال پر اختلال سے کچھ رنج نہیں ۔ عوام الناس جو لکیر کے طور پر اولیاء اور الكهف : ١٩ ٢ البقرة : ٨ ٣ الانفال : ٢٣ ٤ الاعراف : ۱۸۰ ۵۔ الاعراف: ۱۹۹