مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 643
مکتوبات احمد ۶۴۳ جلد اول بھی رات ہی معلوم ہوتی ہے۔ اگر آپ کی آنکھ میں ایک ذرہ بھی نور باقی ہوتا تو آپ سمجھ لیتے کہ حیلہ بہانہ کون کرتا ہے ۔ کیا وہ شخص جس نے صاف طور پر دو ہزار اشتہار تقسیم کر کے ایک دنیا پر ظاہر کر دیا کہ میں میدان میں کھڑا ہوں ۔ کوئی میرے مقابل پر آوے یا وہ شخص کہ چوروں کی طرح غار کے اندر بول رہا ہے۔ جو لوگ حق کو چھپاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی ان پر لعنت ہے۔ پس اگر یہ صوفی در حقیقت کوئی انسان ہے تو محمد حسین کی ناجائز وکالتوں کے برقع میں مخفی نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی لعنت سے ڈرے۔ اگر اس کے پاس حق ہے تو حق کو لے کر میدان میں آ جائے ۔ جب کہ مجھ کو کوئی معین شخص سامنے نظر نہیں آتا تو میں کس سے مقابلہ کروں ۔ کیا مردہ سے یا ایک فرضی نام سے ۔ اور آپ کو یادر ہے کہ اگر میری نظر میں یہ صوفی ایک خارجی وجود رکھتا تو میں جیسا کہ میرے پر ظاہر ہوتا اس کے مرتبہ کے لحاظ سے باخلاق اس سے کلام کرتا ۔ مگر جب کہ میری نظر میں صرف یہ ایک فرضی نام ہے جس کا میرے خیال میں خارج میں وجود ہی نہیں تو اس کے حق میں سخت گوئی محض ایک فرضی نام کے حق میں سخت گوئی ہے ۔ ہاں سخت گوئی آپ نے کی ہے سو میں آپ کے اس ترک ادب اور لعن طعن اور سب اور شتم کو خدا تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں ۔ فقط ۔ راقم مرزا غلام احمد مکرر واضح رہے کہ اب اتمام حجت کر دیا گیا ۔ آیندہ ہماری طرف ایسی پر تعصب تحریریں ہرگز ارسال نہ کریں۔ جب یہ تحریریں چھپ جائیں گی منصف لوگ خود معلوم کر لیں گے کہ کس کی بات انصاف پر مبنی ہے اور کس کی سراسر ظلم اور تعصب سے بھری ہوئی ہے۔ میرزا غلام احمد ۹ رمئی ۱۸۹۲ء ( مطبوعہ پنجاب پر لیس سیالکوٹ ) یہ اشتہار ۲۰×۲۶ کے دو صفحوں پر ہے جو ضمیمہ پنجاب گزٹ سیالکوٹ مورخہ ۱۴ رمئی ۱۸۹۲ء میں طبع ہوا ہے۔ (المرتب) مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۲۶۱ تا ۲۶۴