مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 46

مکتوبات احمد ۴۶ جلد اول خدا کے علم کو خوب غیر محدود بنایا کہ جس سے روحوں کا احاطہ بھی نہ ہو سکا اور شمار بھی نہ معلوم ہوا، با وصفیکہ سب موجود تھے کوئی معدوم نہ تھا۔ کیا خوب بات ہے کہ آسمان اور زمین نے تو روحوں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر بزبان حال اُن کی تعداد بتلائی پھر خدا کو کچھ بھی تعداد معلوم نہ ہوئی ۔ یہ عجیب خدا ہے اور اس کا علم عجیب تر ۔ بھلا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کو جو ارواح موجودہ کا علم ہے یہ اُس کے علوم غیر متناہیہ کا جز ہے یا گل ہے ۔ اگر گل ہے (تو) اس سے لازم آتا ہے کہ خدا کو ہوا روحوں کے اور کسی چیز کی خبر نہ ہو اور اس سے بڑھ کر اس کا کوئی عالم نہ ہو اور اگر جز ہے تو محدود ہو گیا۔ کیونکہ جز گل سے ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے ۔ پس اس سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ارواح محدود ہیں اور خود یہی حق الامر تھا۔ جس شخص کو خدا نے معرفت کی روشنی بخشی ہو وہ خوب جانتا ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم کے دریائے زمین سے علم ارواح موجودہ کا اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتا کہ جیسے سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اس میں کچھ تری باقی رہ جاتی ہے۔ پھر با وا صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ ” یہ اعتراض کرنا بے جا ہے کہ بے انت اور آنا دی ہونا خدا کی صفت ہے اور اگر روح بھی بے انت اور انادی ہوں تو خدا کے برابر ہو جائیں گے۔ کیونکہ کسی جزوی مشارکت سے مساوات لازم نہیں آتی ۔ جیسے آدمی بھی آنکھ سے دیکھتا ہے اور حیوان بھی ۔ پر دونوں مساوی نہیں ہو سکتے“۔ یہ دلیل باوا صاحب کی تغلیط اور تسقیط ہے۔ ورنہ کون عاقل اس بات کو نہیں جانتا کہ جو صفات و کی تغلیط اور ترقی ہے۔ وہند کون نامی اس بات کو میں جانتا کہ خوصفات ذات الہی میں پائی جاتی ہیں وہ سب اس ذات بے مثل کے خصائص ہیں ۔ کوئی چیز ان میں شریک سہیم ذات باری کے نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ اگر ہو سکتی ہے تو پھر سب صفات اس کی میں شراکت غیر کی جائز ہوگی اور جب سب صفات میں شراکت جائز ہوئی تو ایک اور خدا پیدا ہو گیا۔ بھلا اس بات کا آپ کے پاس کیا جواب ہے کہ جو خدا کی صفات قدیمہ میں سے جو انادی اور بے انت ہونے کی صفت ہے وہ تو اس کے غیر میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن دوسری صفات اس کی اس سے مخصوص ہیں ۔ ذرا آپ خیال کر کے سوچیں کہ کیا خدا کی تمام صفات یکساں ہیں یا متقارب ہیں؟ پس ظاہر ہے کہ اگر ایک صفت میں صفات مخصوصہ اس کی سے اشتراک بالغیر جائز نہ ہوگا اور اگر نہیں تو سب نہیں ۔ اور یہ جو آپ نے نظیر دی جو حیوانات مثل انسان کے آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن اس رویت سے انسان نہیں