مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 630 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 630

مکتوبات احمد ۶۳۰ میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بعد کے حالات جلد اول یہ مجموعہ مکتوبات احمدیہ کی پہلی جلد ہے اور یہاں ختم ہوتی ہے لیکن میں اس کو نا تمام سمجھوں گا اگر میر عباس علی شاہ صاحب کے بعد کے واقعات اور حالات کا یہاں ذکر نہ کروں ۔ (عرفانی ) کا میر عباس علی شاہ صاحب لودہانہ کے رہنے والے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں ایک مخلص مددگار تھے۔ مسیح موعود کے دعوئی کے وقت انہیں ابتلا آیا اور اسی ابتلاء میں اُن کا خاتمہ ہوا ۔ اُنہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بذریعہ اشتہا ر بھی کیا اور حضرت ہوا۔ حجۃ اللہ نے نہایت رفق و ملائمت سے اُن کو جواب بھی دیا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ارادہ کر لیا تھا اُن کا خاتمہ انکار پر ہوا۔ اس معاملہ میں میں زیادہ کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا۔ ہاں ناظرین کو اسی مجموعہ مکتوبات کے مکتوب نمبر ۳۴ اور ۴۰ پر خصوصیت سے توجہ کرنے کی صلاح دیتا ہوں ۔ وہ ان مکتوبات کو پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت حجۃ اللہ نے پہلے سے پیشگوئی کی تھی ۔ بہر حال میں حضرت اقدس علیہ السلام کی اس کے بعد کی تحریر میں عباس علی شاہ کے متعلق یہاں درج کر دیتا ہوں اور اس کے بعد اور کوئی تحریر ملی یا مکتوبات ملے ۔ جو میر عباس علی ہی کے نام ہوں وہ بطور تتمہ اس جلد کے چھاپ دیئے جاویں گے ( بہر حال وہ تحریریں یہ ہیں ) (۹) حبی فی اللہ میر عباس علی لود بانوی ۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں ۔ جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرار اخیار کی سنت پر بقدم تجرید محض اللہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے ۔ وہ یہی بزرگ ہیں ۔ میں اس بات کو بھی بھول نہیں سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ اُنہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں ۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور اُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا ۔ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۴۵