مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 616
مکتوبات احمد ۶/۶ جلد اول بطور تنزل لکھا ہے اور ایک فرضی طور پر بیان کیا ہے ورنہ اگر کوئی ذرا آنکھ کھول کر ایک صفحہ وید کا بھی پڑھے تو بہ یقین تمام اُس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی عبارت کا اصلی مقصد اور مطلب یہی ہے کہ دیوتاؤں کی پوجا کرائی جائے ۔ مگر پنڈت دیانند نے اس بدیہی بات کے چھپانے کے لئے کوشش کرنی چاہی ۔ آخر نا کام رہے اور بجائے اس کے کہ وید میں توحید ثابت کرتے اور اس عیب سے مبرا ہونا اُس کا بپایہ ثبوت پہنچاتے کئی ایک اور عیب بھی جو وید میں پائے جاتے ہیں اُنہوں نے ظاہر کر دکھائے اور یک نہ شد دو شد کا معاملہ ہو گیا ۔ جس کو ہم اپنی کتاب براہین احمدیہ کے حصہ پنجم میں اِنْ شَاءَ اللہ بہ تفصیل بیان کریں گے ۔ اب صرف اجمالی طور پر لکھا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے وید نعمت توحید سے بالکل بے نصیب اور تہی دست اور محروم ہیں ۔ اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی فائدہ سے خالی نہیں کہ وہ کتابیں جو وید سے موسوم کی گئیں ہیں ۔ ایک شخص کی تالیف نہیں ہیں بلکہ مختلف لوگوں نے مختلف وقتوں میں اُن کو تالیف کیا ہے اور مؤلفین کے نام اب تک منتروں کے سر پر جُدا جُدا لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں اور وہ منتر بطور شعر کے ہیں جو دیوتاؤں کی تعریف میں خوش اعتقاد لوگوں نے بنائے تھے ان کتابوں کے پڑھنے سے یہ ہرگز پایا نہیں جاتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو کسی ایک یا چند پیغمبروں پر نازل کیا تھا بلکہ منجانب اللہ ہونے کا ذکر بھی نہیں ۔ جا بجا منتروں کے سر پر یہی لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ یہ منتر فلاں شخص نے تالیف کیا ہے اور یہ فلاں شخص نے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ زمانہ حال کے محققوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وید ایسی کتاب نہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہو کہ میں آسمانی کتاب ہوں کہ نے پر رائے ظاہری ہے کہ ویدا یسی اور فلاں فلاں پیغمبر پر اتری تھی بلکہ ایک مجموعہ اشعار ہے جس کو کئی ایک شاعروں نے اوقات مختلفہ میں جوڑا ہے ۔ ماسوا اس کے وید میں یہ بات بھی نہیں کہ جیسے ربانی کتاب ربانی قدرتوں کا اور صفتوں کا ایک آئینہ ہونی چاہئے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور اُس کی قدرت تامہ اور اُس کی غیب بینی اور اُس کی خالقیت و رزاقیت وغیرہ صفات کو صرف عقلی طور پر ثابت نہ کرے بلکہ آسمانی نشان کے طور پر طالب حق کو مشاہدہ کرائے کہ خدا فی الحقیقت موجود ہے ) اور اُس میں یہ صفات موجود ہیں کیونکہ در حقیقت ربانی کتابوں کے نازل ہونے سے عمدہ فائدہ یہی ہے کہ خدا اور اُس کی صفات کو نہ صرف عقلی اور قیاسی طور پر شناخت کیا جائے ۔ بلکہ آسمانی کتاب خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کو ایسا ثابت کر کے دکھلاوے کہ اُس کے پیروان تمام امور میں گویا رؤیت کے گواہ ہو جائیں ۔ اور اسی طرح پر