مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 594
مکتوبات احمد مالد جلد اول فی الحقیقت وہ لیلیٰ ہی ہو گیا تھا بلکہ اس کا یہ باعث تھا کہ چونکہ وہ مدت تک تصویر لیلی میں غرق رہا۔ اس لئے آہستہ آہستہ اس میں خود فراموشی کا اثر ہونے لگا۔ ہوتے ہوتے اس کا استغراق بہت ہی کمال کو پہنچ گیا اور محویت کی اس حد تک جا پہنچا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنون عشق سے انا الليلی کا دعوی کرنے لگا اور یہ خیال دل میں بندھ گیا کہ فی الحقیقت میں ہی لیلی ہوں ۔ غرض غیر کو معدوم سمجھنا لوازم کمال عشق میں سے ہے اور اگر غیر فی الحقیقت معدوم ہی ہے تو پھر وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جس کو استیلاء محبت اور جنون عشق سے کچھ بھی تعلق ہوا اور غلبہ عشق کی حالت میں محویت کے آثار پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو انسان مشکل سے سمجھ سکے ۔ شیخ مصلح الدین شیرازی نے خوب کہا ہے ۔ نه از چینم حکایت کن نه از روم که دارم دلستانے اندریں بوم چو روئے خوب او آید بیادم فراموشم شود موجود اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں : با تو مشغول و با تو ہم اہم تا مرا از تو آگهی دادند و معدوم و از تو بخشایش تو میخواهم بوجودت گر از خود آگاهم اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں ۔ ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں کمال توحید کا یہی درجہ بیان کیا گیا ہے کہ محب صادق بوجہ استیلاء محبت اور شہود عظمت محبوب حقیقی کی غیر کے وجود کو کالعدم خیال کرے نہ کہ فی الواقعہ کو نہ فی غیر معدوم ہی ہو۔ کیونکہ معدوم کو معدوم خیال کرنا ترقیات عشق اور محبت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ سو عاشق صادق کے لئے تو حید ضروری اور لابدی ہے کہ جو اُس کے کمال عشق کی علامت ہے۔ یہی تو حید ہے کہ جو اُس کا شہود بجز ایک کے نہ ہو۔ نہ یہ کہ عقلی طور پر بھی فی الواقعہ ہی موجود سمجھتا ہو کیونکہ وہ اپنے عقل میں ہو کر ایسی باتیں ہرگز منہ پر نہیں لاتا اور حق الیقین کے مرتبہ کے لحاظ سے جب دیکھتا ہے تو حقائق اشیاء سے انکار نہیں کر سکتا بلکہ جیسا کہ اشیاء فی الواقعہ موجود ہیں ایسا ہی اُن کی موجودیت کا اقرار رکھتا ہے اور چونکہ یہ تو حید شہودی فنا کے لئے لازمی اور ضروری ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے پاک کلام میں بسط سے فرمایا ہے اور نادان جب اُن بعض آیات کو