مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 591 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 591

مکتوبات احمد ۵۹۱ جلد اول ہو رہا ہے کہ انسان کی روح کے لئے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخر الذکر میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادت کا ملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالات فطرتی کو پالیتا ہے اور اپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچا دیتا ہے ۔ اُس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فَادْخُلِي فِي عِبْدِی کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔ سواب دیکھئے اس آیت سے کس قدر بصراحت ثاب ر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے۔ اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہوتا ہے ۔ اگر عبودیت انسان کے لئے ایک عارضی جامہ ہوتا اور اصل حقیقت اس کی الوہیت ہوتی تو چاہئے تھا کہ بعد طے کرنے تمام مراتب سلوک کے الوہیت کے نام سے پکارا جاتا۔ لیکن فَادْخُلِي فِي عِبْدِی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ عبودیت اُس جہان میں بھی دائمی ہے۔ جو ابدالآباد رہے گی اور یہ آیت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ انسان کو کیسے ہی کمالات حاصل کرے مگر وہ کسی حالت میں عبودیت سے باہر ہو ہی نہیں ( سکتا ) ۔ اور ظاہر ہے کہ جس کیفیت سے کوئی شے کسی حالت میں باہر نہ ہو سکے وہ کیفیت اُس کی حقیقت اور ماہیت ہوتی ہے۔ پس چونکہ از روئے بیان واضح قرآن شریف کے انسان کے نفس کے لئے عبودیت ایسی لازمی چیز ہے کہ نہ نبی بن کر اور نہ رسول بن کر اور نہ صدیق بن کر اور نہ شہید بن کر اور نہ اس جہان اور نہ اُس جہان میں الگ ہو سکے ۔ جو مہتر اور بہتر انبیاء تھے ۔ انہوں نے عَبدُهُ وَ رَسُولُۂ ہونا اپنا فخر سمجھا ۔ تو اس سے ثابت ہے کہ انسان کی اصل حقیقت و ماہیت عبودیت ہی ہے الوہیت نہیں ۔ اور اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہے تو بمقابلہ اس محکم اور بین آیت کے کہ جو فَادْخُلِي فِي عِبْدِی ہے ۔ کوئی دوسری آیت ایسی پیش کرے کہ جس کا مفہوم فَادْخُلِي فِي ذاتی ہو۔ اور خود قرآن شریف جا بجا اپنے نزول کی علت غائی بھی یہی ٹھہراتا ہے کہ تا عبودیت پر لوگوں کو قائم کرے اور خدا نے اپنی کتاب عزیز میں اُن لوگوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے مسیح اور بعض دوسرے نبیوں کو خدا سمجھا تھا ۔ پس کیونکر وہ لوگ رحمت کے مستحق ہو سکتے ہیں جنہوں نے تمام جہان کو یہاں تک کہ نا پاک اور پلید روحوں کو بھی کہ جو شرارت اور فسق اور فجور سے بھری ہیں خدا سمجھ لیا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے توحید تین مرتبہ پر منقسم ہے۔ ا الفجر : ٣٠