مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 586 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 586

مکتوبات احمد ۵۸۶ جلد اول اس کی آرزو کرنے والے سخت غلطی پر ہیں ۔ مومن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہیں کہ اس کا مولی کریم اُس پر راضی ہو ۔ آپ کے نفس میں قبولیت دعا کی شرائط پیدا ہیں ۔ اور اس عاجز نے ۔ دوسروں میں اس قسم کی استقامت کم پائی ہے ۔ نیک ظن بننا آسان ہے مگر اُس کا نبھانا بہت مشکل ۔ سوخدا نے استقامت اور حسن ظن کی سالیت آپ کے نفس میں رکھی ہے۔ یہ بڑی خوبی ہے کہ جس سے انسان اپنی مراد کو پہنچتا ہے اور نہایت بد نصیب وہ انسان ہے جس کا انجام آغاز کا جوش نہیں رکھتا اور بدظنی اُس کو ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے اور سعید وہ انسان ہے جس پر نیک ظن غالب ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ٹھو کر کھانے سے بچتے ہیں اور اُس کا فطرتی نور اُن کو شیطانی تاریکی سے بچا لیتا ہے اور تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں اور الحمد للہ کہ میں آپ کو اُن تھوڑوں کے اول درجہ میں دیکھتا ہوں ۔ بخدمت تمام احباب سلام مسنون پہنچے ۔ یکم جنوری ۱۸۸۴ء مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۰۱ھ مکتوب نمبر ۳۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا مبلغ پچاس روپیہ مرسلہ آپ کے پہنچ گئے ۔ جَزَاكُمُ الله خَيْرًا ۔ اب یہ عاجز یوم شنبه امرتسر جانے کو تیار ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہیں سے آپ کی خدمت میں خط لکھے گا ۔ آپ نے جو خواب دیکھی ۔ انشاء اللہ القدیر بہت بہتر ہے۔ انسان کو بغیر راست گوئی چارہ نہیں اور انسان سے خدا تعالیٰ ایسی کوئی بات پسند نہیں کرتا جیسے اُس کی راست گوئی کو ۔ اور راست یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس عاجز سے ایک عجیب معاملہ ہے کہ اس جیسے شخص پر اُس کا تفضل اور احسان ہے کہ اپنی ذاتی ۔ حالت میں احقر اور ارذل عباد ہے۔ زہد سے خالی اور عبادت سے عاری اور معاصی سے پُر ہے ۔سو زہر ہے۔سو اُس کے تفصلات تحیر انگیز ہیں ۔ خدا تعالیٰ کا معاملہ اپنے بندوں سے طرز واحد پر نہیں اور تو جہات اور اقبال اور فتوح حضرت احدیت کی کوئی ایک راہ خاص نہیں ۔ اگر چہ طرق مشہورہ ریاضات اور عبادات اور زہد اور تقویٰ ہے مگر ماسوا اس کے ایک اور طریق ہے جس کی خدا تعالیٰ کبھی کبھی آپ