مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 581 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 581

مکتوبات احمد ۵۸۱ مکتوب نمبر ۳۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا یہ عاجز چند روز سے ملاحظہ کام طبع کتاب کیلئے امرتسر چلا گیا تھا آج واپس آ کر آں مخدوم کا خط ملا۔ یہاں سے ارادہ کیا گیا تھا کہ امرتسر جا کر بعد اطلاع دہی ایک دو دن کے لئے آپ کی طرف آؤں ۔ مگر چونکہ کوئی ارادہ بغیر تائید الہی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس لئے یہ خاکسا را مرتسر جا کر کسی قدر علیل ہو گیا ۔ ناچار وہ ارادہ ملتوی کیا گیا ۔ سو اس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روک واقع ہوگئی ۔ اُس کے کام حکمت سے خالی نہیں ۔ مولوی عبد القادر صاحب کی حالت سے دل خوش ہے۔ طلب عرفان بھی ایک عرفان ہے۔ حضرت خدا وند کریم کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں ۔ سواگر خداوند کریم نے چاہا تو یہ عاجز بھی دعا کرے گا۔ غنیمت ہے کہ بفضلہ مولوی صاحب صاحب علم ہیں ۔ طالب نادان شیطان کا بازی گاہ ہوتا ہے لیکن اس فقیر کی راہ میں مولویت بھی ایک حجاب عظیم ہے ۔ انسان خاک ہے اور جب تک اپنی اصل کی طرف عود کر کے خاک ہی نہ ہو جائے تب تک مولیٰ کریم کی اس پر نظر نہیں پڑتی ۔ سو اس خاکساری اور نیستی کو اُسی قادر مطلق سے طلب کرنا چاہئے ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں جو مانگا گیا ہے وہ بھی خاکساری اور نیستی ہے۔ انسان کے نفس میں بہت سی رعونتیں اور نخوتیں اور عجب اور ریا اور خود بینی اور بزرگی چھپی ہوئی ہے ۔ جب تک خدا ہی اُس کو دور نہ کرے دور نہیں ہوتی ۔ پس یہ بلا ہے جو نیستی اور خاکساری کے منافی ہے۔ سوتضرع اور زاری سے جناب الہی میں التجا چاہئے تا جس نے یہ بلا پیدا کی ہے وہی اُس کو دور کرے اور ظاہری جھگڑوں میں بہت ہی نرم ہو جانا چاہئے ۔ قلت اعتراض سالکین شعار میں سے ہے ۔ انسان جب تک پاک نفس نہ ہو جائے اُس کے جھگڑے نفسانیت سے خالی نہیں ۔ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ لا ۹ نومبر ۱۸۸۳ ء مطابق ۱۸ محرم ۱۳۰۱ھ ا المائده: ١٠٦