مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 567

مکتوبات احمد ۵۶۷ جلد اول بُشْرَى لَكَ يَا اَحْمَدِى أَنْتَ مُرَادِى وَ مَعِي غَرَسْتُ كَرَامَتَكَ بِيَدِي بشارت باد تر ایا احمد من تو مرادمنی و با منی - نشاندم درخت بزرگی ترا بدست خود ۔ بخدمت خواجہ علی صاحب و مولوی عبد القادر صاحب و منشی بهرام خان صاحب وغیرہ احباب آں صاحب سلام مسنون پہنچے کی ☆ ۱۳ استمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۰ ذیقعد ۱۳۰۰ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتوب نمبر ۲۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس باس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ نے نے جو سوالات ۔ کئے ہیں ان کی حقیقت خدا وند کریم ہی کو معلوم ہے۔ اس احقر کے خیال میں جو گزرتا ہے وہ یہ ہے (۱) صوفی باعتبار اس حالت کے سالک کا نام ہے کہ جب وہ اپنے زور اور تمام توجہ اور تمام عقل اور تمام اطاعت اور تمام مشغولی سے نا نام ہے کہ وہ اپنے زور اور اور اور اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قدم اُٹھاتا ہے اور اپنی جانفشانیوں اور محنتوں اور صدقوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس حالت میں تمام کاروبار اُس کا وابستہ اوقات ہوتا ہے۔اگر اپنے وقتوں کو ہر یک لہو ولعب سے بچا کر یا دالہی سے معمور کرتا ہے تو اگر خدا تعالیٰ نے چاہا ہے تو کسی منزل تک پہنچ جاتا ہے لیکن اگر حفظ اوقات میں خلل ہوتا ہے تو اس کا سارا کام درہم برہم ہو جاتا ہے جیسے اگر مسافر چلتا بھی رہے تو جائے مقصود تک پہنچتا ہے۔ پر اگر چلنا چھوڑ دے بلکہ جنگل میں آرام کرنے کی نیت سے سو جائے تو قطع نظر عدم وصول سے جان کا بھی خطرہ ہے۔ سو جیسے مسافرا بن السبیل ہے ۔ سبیل کو قطع نہ کرے تو کیسے ٹھکانہ تک پہنچے ۔ ایسا ہی صوفی ابن الوقت ہے ۔ اپنے وقت کو خدا کی راہ میں لگا وے تو مقصود کو پاوے۔ پس جب کہ حفظ وقت صوفی کے لازم حال ہی پڑا ہے تو اپنے کام کو ا تذکرہ صفحہ ۱۹۵ ۔ ایڈیشن چہارم اخبار الحکم نمبر ۲۶ جلد ۳-۲۴ جولائی ۱۸۹۹ء