مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 557
مکتوبات احمد ۵۵۷ جلد اول اور تقل تھا وہ دور ہو جاتا ہے۔ اس لئے وہ ملائک سے تشبیہ پیدا کر لیتا ہے اور یہ حالت ملکوتی حالت ہے اور اس حالت میں سالک کا اکل و شرب اور ہر یک ما بہ الاحتظاظ امر سے وابستہ ہوتا ہے یعنی ہوا و ہوس کی اتباع سے بگلی رستگار ہو جاتا ہے اور وہی بجالاتا ہے جس کے بجالانے کے لئے شرعاً یا الہاما مامور ہو۔ اور پھر بعد اس کے حالت چہارم ہے جس کو لاہوتی حالت سے تعبیر کرنا چاہئے اور جب سا لک اس حالت تک پہنچایا جاتا ہے تو صرف یہی بات نہیں کہ اپنے ہوا و ہوس سے خلاصی پاتا ہے بلکہ بکلّیا اپنے ہوا و ہوس سے اور نیز اپنے ارادہ سے کو ہو جاتا ۔ سے محو ہو جاتا ہے ۔ تب انسان خدا کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے جیسا مردہ بدست زندہ ہوتا ہے اور الوہیت اس فانی پر اپنی تجلیات تامه ڈالتی ہے اور ارادات ربانی علی وجہ البصیرت اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے سے برتر صاحب علم علم صحیح ۔ ہوتا ہے اور ہر ہر یک ابتلا اور آزمائش سے باہر آ جاتا ہے اور یہ مرتبہ ملائک ہے۔ ملائک کو یہ حالت چہارم جو غلبہ عشق سے پیدا ہوتی ہے عطا نہیں ہوتی ۔ یہ خاص انسان کے حصہ میں آئی ہے۔ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ لے اور جیسی بصیرت کاملہ ایسی حالت سے مخصوص ہے۔ ایسا ہی صلاحیت کاملہ بھی اسی حالت سے وابستہ ہے کیونکہ پہلی حالتیں میں نقصان علمی و عملی سے خالی نہیں ہیں بلکہ نقصان علمی و عملی ان کے لازم حال پڑا ہوا ہے کیونکہ خدا میں اور اُن میں اپنا وجود حائل ہے ۔ بس وہی وجود ایک حجاب بن کر علم اور اخلاص کے ناقص رہنے کا موجب ہے لیکن حالت چہارم میں وجود بشری بگلی اُٹھ جاتا ہے اور کوئی حجاب درمیان میں نہیں رہتا اور اس حالت میں عارف کا اکل و شرب اور ہر ایک ما بہ الاحتفاظ اُس کے شعور اور ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پودے کی طرح بے حس و حرکت ہے اور مالک جب مناسب دیکھتا ہے تو اُس کی آبپاشی کرتا ہے ۔ اُس کو اس طرف خیال بھی نہیں آتا کہ میں کیا کھاؤں گا اور کیا پیوں گا اور جیسے ایک بے ہوش کو خواہ کوئی لات مار جائے ۔ خواہ پیار دے جائے ۔ یکساں ہوتا ہے ایسا ہی وہ جام عشق سے مست و مدہوش ہے اور اپنے نفس کے انتظاموں سے فارغ ہے ۔ سو جیسے مادر مہربان اپنے نادان بچے کو وقت پر آپ دودھ پلاتی ہے اور اس کی بالشت نابالشت کی آپ خبر رکھتی ہے ایسا ہی خداوند کریم اس ضعیف اور عاجز بشر کا کہ جو اس کی محبت کے سخت جذبہ سے یکبارگی اپنے وجود سے اور اُس کے ا المائدة: ۵۵