مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 537
مکتوبات احمد ۵۳۷ مکتوب نمبر ۲۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ رتبہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد اول بعد ہذا آن مخدوم کے دوعنایت نامہ پے در پے پہنچے ۔ باعث مسرت اور خوشی کا ہوا۔ آپ کی کوششوں سے بار بار دل خوش ہوتا ہے اور بار بار دعا آپ کے لئے اور آپ کے معاونوں کے لئے دل سے نکلتی ہے۔ خداوند کریم نہایت مہربان ہے۔ اُس کے تفصلات سے بہت سی امیدیں ہیں ۔ اس کی راہ میں کوئی محنت ضائع نہیں ہوتی ۔ آپ نے لکھا تھا کہ ایک عالم نے فیروز پور میں اعتراض کیا ہے کہ رسول مقبول نے سیر ہو کر بھی کھایا ہے۔ لیکن اس بزرگ عالم نے اس عاجز کی تقریر کا منشاء نہیں سمجھا ہے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سیر ہونے کے معنی سمجھے ہیں۔ طبیبین اور طاہرین کا سیر ہو کر کھانا اُس قسم کا سیر ہونا نہیں ہے جو اُن لوگوں کا ہوا کرتا ہے جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چار پائے کھایا کرتے ہیں اور آگ اُن کا ٹھکانا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت سیر ہو کر کھانا اور ہی نور ہے اور اگر اُس سیری کو اُن لوگوں کی طرف نسبت دی جاوے جن کا اصل مقصد احتظاذ اور تمتع ہے اور جن کی نگاہیں نفسانی شہوات کے استفا تک کی محدود ہیں تو اُس سیری کو ہم ہرگز سیری نہیں کہہ سکتے ۔ سیری کی تعریف میں پاکوں اور مقدسوں کی اصطلاح اور ناپاکوں اور شکم پرستوں کی اصطلاح الگ الگ ہے اور پاک لوگ اُسی قدر غذا کھانے کا نام سیری رکھ لیتے ہیں کہ جب فی الجملہ وقت جوع دور ہو جائے اور حرکات وسکنات پر قوت حاصل ہو جائے ۔ غرض مومن کی سیری یہی ہے کہ اس قدر غذا کھائے جو اُس کی پشت کو قائم رکھے اور حقوق واجبہ ادا کر سکے ۔ پس جو سید المومنین ہے ۔ اُس کی سیری کا قیاس عام لوگوں کی سیری پر قیاس مع الفارق ہے۔ اسی طرح بہت لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عظیم کو نہیں سمجھا اور الفاظ کے مورد استعمال کو ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے تئیں غلطی میں ڈال لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت یہ فرمانا کہ میں سیر ہو گیا ہوں ہرگز اُس قول کا مرادف نہیں کہ جو دنیا داروں کے منہ سے نکلتا ہے جنہوں نے اصل مقصد اپنی زندگی کا کھانا ہی سمجھا ہوا ہوتا ہے۔ غرض پاکوں کا کام اور کلام پاکوں کے