مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 529
مکتوبات احمد ۵۲۹ جلد اول کی خدمت میں اس عاجز کا سلام مسنون پہنچاویں۔ خداوند کریم کا ہر ایک شخص سے الگ الگ معاملہ ہوتا ہے اور ہر ایک بندہ سے جس طور کا معاملہ ہوتا ہے اسی طور سے اُس کی فطرت بھی واقع ہوتی ہے۔ اس عاجز کی فطرت پر تو حید اور تفویض الی اللہ غالب ہے ۔ اور معاملہ حضرت احدیت بھی یہی ہے کہ خودروی کے کاموں سے سخت منع کیا جاتا ہے ۔ یہ مخاطبت حضرت احدیت سے بارہا ہو چکی ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا ے سو چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں ۔ اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں ۔ لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا ۔ کے مولوی صاحب اخوت دینی کے بڑھانے میں کوشش کریں اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودہ کی پرورش میں مشغول رہیں۔ تو یہی طریق إِنْ شَاءَ الله تعالی بہت مفید ہوگا ۔ خلقتم من نفس واحدة جزاء البدن مستفيض لما استفاض البدن كله وكونوامع الصادقين هم قوم لا يشقى جليسهم - والسلام ۔ حصہ بخدمت خواجہ علی صاحب سلام علیکم ۔ ابھی مولوی صاحب کا اس جگہ تشریف لانا بے وقت ہے ۔ یہ عاجز چہارم کے کام سے کسی قدر فراغت کر کے اگر خدا نے چاہا اور نیت صحیح میسر آ گئی تو غالبا امید کی جاتی ہے کہ آپ ہی حاضر ہوگا والامر كله فی یدالله وما اعلم ما اريد في الغيب مکتوب نمبر ۱۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ☆ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آن مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ خداوند کریم کا کیسا شکر کیا چاہئے کہ اُس نے اپنے تفصلات قدیم سے آپ جیسے دلی دوست بہم پہنچائے ۔ اگر چہ آپ کا اخلاص کامل اس درجہ پر ہے کہ اس عاجز کا دل بلا اختیار آپ کی دعا کیلئے کھینچا چلا جاتا ہے ۔ پر جس ذات قدیم نے آپ کو یہ اخلاص بخشا ہے اُس نے خود آپ کو چن لیا ہے۔ تب ہی یہ اخلاص بخشا ہے۔ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۔ بخدمت مخدومی مولوی عبدالقادر صاحب بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سمجھا ہے بنی اسرآءيل: ۳۷ ۲ الكهف : ۲۴ - الطلاق: الحديد : ۲۲ الحکم ۲۹ نومبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۷